ہم نے جب اُن سے پہلی ملاقات کی آخری بات تھی وہ جو اک بات کی چاند سورج ستارے سبھی پا لئے چھٹ نہ پائی مگر تیرگی رات کی خونِ دل سے لِکھی داستانِ سفر ہم نے کاغذ پہ اشکوں سے برسات کی حُسن کے ناز کو جس نے گھائل کیا کِرچیاں تھیں وہ میرے خیالات کی زندہ لوگوں سے اُن کے مکاں چھین کر ہو رہی ہے سجاوٹ مزارات کی جشن مل کر منائیں نہ کیوں موت کا سوگواری تو بدلے گی حالات کی تم نے الطاف دل کھول…
Read More