نا رسیدہ طرب کا کیا کیجے گریۂ نیم شب کا کیا کیجے ہاتھا پائی پہ وہ اُتر آئے ایسے پاسِ ادب کا کیا کیجے اپنی وحشت ہے اپنا غم، اُن کے خندئہ بے سبب کا کیا کیجے شیخ رندوں سے بڑھ گئے صاحب احترامِ نسب کا کیا کیجے کچھ کہا ہو، ہوا سے لڑنے لگے بے جہت اس غضب کا کیا کیجے خود نمائی کو ان کی کیا کہیے دیدئہ بے ادب کا کیا کیجے نارسائی بھی رایگانی ہے جدوجہد و طلب کا کیا کیجے اب مسیحا مشیر رکھیں گے…
Read More