غم بٹائے جا رہے ہیں
دل جلائے جا رہے ہیں
نفرتوں کا جال ایسا
گھر گرائے جا رہے ہیں
منزلوں کی چاہ کس کو
ہم تو جائے جا رہے ہیں
آشتی کے سب پرندے
اب اُڑائے جا رہے ہیں
رنج دے کر دوسروں کو
مسکرائے جا رہے ہیں
روز بڑھتی قیمتوں کے
بم گرائے جا رہے ہیں
مرحلہ در مرحلہ ہم
آزمائے جا رہے ہیں
