کتنے انمول ہیں وہ آنسو
جو آنکھوں سے نہیں بہتے
دکھائی جو نہیں دیتے
وہ آنسو
جھیل کی سی گہری آنکھوں سے
باہر نکلنے کو جب بہت بے چین ہوتے ہیں
تو کوئی احساس ماضی کا
انھیں آنکھوں کی سرحد پر
یہ کہہ کر روک لیتا ہے
ابھی تم نے نہیں بہنا
وہ کہہ گیا تھا
پہاڑوں پر برف پگھلنے تک
میرا انتظار کر لینا
بہت ہی خوبصورت ہیں
وہ آنسو
جو پانی کے کٹوروں کی
طرح سے جھلملاتے ہیں
وہ آنکھوں تک تو آتے ہیں
مگر پھر لوٹ جاتے ہیں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
