کراچی آپریشن … نوید صادق

میرا پاکستان
……

کراچی آپریشن
…….

کراچی شہر میں فرقہ واریت، بھتہ خوری، گینگ وار اور دہشت گردی کا دور دورہ تھا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے اور اس تجارتی مرکز کی بحالی کے پیشِ نظر بھتہ خوروں، چور اچکوں اور دہشت گردوں کے خلاف ایک سخت آپریشن کا فیصلہ کیا۔ صوبائی حکومت نے اپنے جملہ اختلافات کو پسِ پُشت ڈال کر اس آپریشن کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے ہر ممکنہ اقدام کا عہد کیا۔ آپریشن کا آغاز ہوتے ہی کچھ سیاسی جماعتوں نے اس آپریشن کی مخالفت شروع کر دی۔ مخالفت کرنے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ پیش پیش رہی۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ہر چھوٹے بڑے آپریشن پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما چیخنا چلانا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟ خیر اِس بار بھی ہمیشہ کی طرح وہی موقف کہ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ قومی موومنٹ کو ختم کرنا چاہتی ہیں، آپریشن کی آڑ میں متحدہ کے کارکنان کوزچ کیا جا رہا ہے، اُن پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں، ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، ادارے اُن کے کارکنان کو اغوا کر رہے ہیں۔یہ شورشرابا ہمیشہ کی طرح آپریشن کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ ہوتے ہوتے کراچی شہر کے حالات یہاں تک آ گئے کہ کراچی سے آنے والے کچھ دوستوں نے بتایا کہ اب وہاں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ کراچی میں فون پر کچھ دوستوں سے بات چیت ہوتی رہتی ہے، اُن کی طرف سے بھی اسی رائے کا اظہار کیا گیا۔میڈیا پر پیش کیے جانے والے گرفتاریوں اور مجرموں کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار بھی کچھ اسی نوعیت کی نوید سنا رہے تھے۔ خوشی ہوئی کہ ہمارا کراچی بحال ہو رہا ہے۔اس آپریشن میں تقریباً ساڑھے بارہ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کراچی آپریشن میں پولیس اور رینجرز نے بھاری تعداد میں اسلحہ اور منشیات بھی اپنے قبضہ میں لیں۔ لیاری میں مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان تصادم عرصہ دراز سے معمول کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے جوانوں نے مل کر لیاری میں وسیع پیمانے پر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کاروائیاں کیں اور مختلف گروہوں کے بڑوں کو یا تو ہلاک کر دیا یا گرفتار کر لیا۔ لیکن اسی پر بات ختم نہیں ہو جاتی کہ ابھی تو اس شہر کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کے لیے ایک طویل جنگ کی ضرورت ہے۔پھر ایک مسئلہ جو اکثر و بیش تر ہماری پولیس اور رینجرز کے جوانوں کا مورال کم کر دیتا ہے، عدلتی فیصلوں سے متعلق ہے۔ بارہ ہزار افراد جو گرفتار کیے گئے، اُن میں سے کتنوں کو سزا ہوئی؟ کتنوں کو باعزت بری کیا گیا؟ اب تک کتنے مقدمے نمٹا دیے گئے؟ ان سوالوں کے جواب میں ہمارا عدالتی نظام خاموش ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس پر عدلیہ کو توجہ دینا ہو گی، ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سوچنا ہو گا۔ اسی نوعیت کی عدالتی کاروائیوں سے ماورا کام کرنے والے ایک جاں باز اور فرض شناس پولیس افسر چوہدری اسلم تھے کہ جن کی گولیاں بطورِ خاص دہشت گردوں کی تلاش میں رہتی تھیں، وہ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے لاک اپ اور عدالتوں کے طویل نظام سے گزارنے کی بجائے موقع پر ہی فیصلہ کرنے کو احسن جانتے تھے۔ لیکن اب چوہدری اسلم بھی مرحوم ہو گئے۔ اس کیس پر مختلف حوالوں سے غو و غوض جاری ہے۔ مختلف شخصیات اور اداروں پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے آگے آگے کیا ہوتا ہے؟ لیکن میڈیا نے چوہدری اسلم کی شہادت کو جہاں ایک بڑا سانحہ قرار دیا وہیں ان کی شہادت سے پولیس اور رینجرز میں عام ہو جانے والی ممکنہ بددلی کا بھی بار بار ذکر کیا اور اس سلسلے میں ٹاک شوز بھی زور شور سے چلتے رہے۔چوہدری اسلم کی ہلاکت یقیناً ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن ادارے شخصیات کے گرد نہیں گھومتے، شخصیات اداروں کو پروان چڑھاتی ہیں، اداروں میں شخصیات کی قربانیاں دیگر کارکنان کے لیے مثال بنتی ہیں۔ سندھ پولیس میں یقیناً اب بھی کئی اسلم چوہدری ہوں گے۔ایسے میں ہمارے میڈیا کا جوانوں کے حوصلوں کے گرنے کا امکان ظاہر کرنا، ایسا احسن نہیں تھا۔دوسری طرف پولیس کے جوان بار بار دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
پھر یکایک رینجرز کا یہ موقف سامنے آیا کہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہو رہے ہیں جو کراچی آپریشن کے لیے ہرگز ہرگز درست نہیں کہ اب آپریشن ایک فیصلہ کُن مرحلے پر ہے اور پولیس اور رینجرز کے وہ جوان جو اِس آپریشن میں شریک ہیں، معاملات کی اونچ نیچ سے آگاہ ہیں، اُن کا تبدیل کیا جانا یقیناً نیک فال نہ سمجھا جائے گا۔سو ڈی جی رینجرز کا اِس معاملے میں تبادلے نہ کرنے کا مطالبہ اپنی جگہ اشد ضروری اور بروقت ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی رینجرز اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان ہونے والی ملاقات اور اس کے نتائج تسلی بخش ہیں۔ لیکن ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے اس معاملے کو بھی خوب ہوا دی ہے۔ اوپر سے مختلف نیوز چینل یہ دعوے کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ یہ خبر سب سے پہلے ان کے چینل سے نشر ہوئی۔ یہ بھلا کون سی دوڑ ہوئی؟ ہماری میڈیا والوں سے درخواست ہے کہ اداروں کے، جوانوں کے حوصلے بلند کرنے کی سعی کریں ناں کہ انھیں پستی کی طرف لے جائیں۔ کچھ خبریں اور ان خبروں پر تبصرے ملکی مفاد کی ذیل میں بھی نہیں آتے۔ہم اپنی پولیس کو، اپنی رینجرز کو، اپنی فوج کو جو چاہیں کہتے رہیں، لیکن ایک بات ماننا ہو گی کہ اگر ہمارے اور دہشت گردوں ، بھتہ خوروں کے درمیان ان اداروں کے جوان نہ ہوتے تو شاید ہم کب کے ۔۔۔ اس سے آگے کہنے سننے کا حوصلہ کہاں سے لائیں۔ سو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھاتے رہیں کہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ ہماری یہ باتیں شاید اُن لوگوں کو بھلی معلوم نہ ہوں جن کا کام ہی اٹھتے بیٹھتے حکومت اور اِداروں کو کوستے رہنا ہے لیکن انھیں بھی چاہیے کہ وہ زندگی میں ایک آدھ مرتبہ ٹھنڈے دل سے غور کریں، ہر چیز کے اچھے برے پہلو سامنے رکھیں اور پھر عوام کے سامنے اپنا تجزیہ، اپنی رائے رکھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزنامہ دن

۱۸ جنوری ۲۰۱۴ء

Related posts

Leave a Comment