Nov 15, 2013
Read MoreMonth: 2019 اگست
خدا کا شکر ہے!
Nov 14, 2013
Read Moreصرف کردار ہی بدلے ہیں، کہانی ہے وہی
Nov 10, 2013
Read Moreایک انوکھا احتجاج
Nov 09, 2013
Read Moreننگِ محفل ترا زندہ، ترا مُردہ بھاری
Nov 06, 2013
Read Moreپاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ
Nov 04, 2013
Read Moreاعترافِ ناکامی ۔۔۔۔۔ کامیابی کی طرف پہلا قدم
Nov 03, 2013
Read Moreسیماب اکبر آبادی
دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں اک آئنہ تھا، ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
Read Moreموئن جو دَڑو کی بلندی سے طلوع ہوتی نظم ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد
ہم تو مردے ہیں! یہ مردوں کا ٹیلہ ہے! اِس ٹیلے کے سائے سے بھی دور،بہت پستی میں زندہ لوگ دیار بسائے پھرتے ہیں! اِن زندہ لوگوں نے ، ہم مردہ لوگوں سے اپنے ربط بھلا کے مستقبل کے ہاتھ میں ہاتھ تو ڈال دیے! مستقبل کے خلا میں پائوں جمالینے کی ٹھان تو لی! لیکن بھول گئے! مستقبل تو حُسنِ کشش سے خالی،طرفہ بے وزنی کا عالم ہے! ہم تو اپنے سروں کو بھنچے ہوئے ہاتھوں میں سجائے، مڑے ہوئے گھٹنوں میں دیے! بچوں کی طرح مٹی کے گھڑوں…
Read Moreمولانا طالب جوہری
خلوتِ بے نشان میں پھول کھلے نشان کے وحشتِ دل بھی سو گئی چادرِ ماہ تان کے اپنے لباسِ جاں پہ بھی، صاحبو! ٹک نظر کرو ہنستے رہو گے کب تلک ہم کو غریب جان کے خلوتیانِ کنج ہوش تشنہ لبانِ یم بہ دوش میرے حریف تھے مگر لوگ تھے آن بان کے موج بہ موج یم بہ یم بادِ مراد ساتھ تھی ناؤ سے رد نہ ہو سکے فیصلے بادبان کے تیری گلی میں جاگ کر ہم نے بھی جُگ بتائے ہیں ہم پہ بھی فاش ہوں کبھی رنگ…
Read More