موئن جو دَڑو کی بلندی سے طلوع ہوتی نظم ۔۔۔۔۔۔۔ خالد احمد

ہم تو مردے ہیں! یہ مردوں کا ٹیلہ ہے! اِس ٹیلے کے سائے سے بھی دور،بہت پستی میں زندہ لوگ دیار بسائے پھرتے ہیں! اِن زندہ لوگوں نے ، ہم مردہ لوگوں سے اپنے ربط بھلا کے مستقبل کے ہاتھ میں ہاتھ تو ڈال دیے! مستقبل کے خلا میں پائوں جمالینے کی ٹھان تو لی! لیکن بھول گئے! مستقبل تو حُسنِ کشش سے خالی،طرفہ بے وزنی کا عالم ہے! ہم تو اپنے سروں کو بھنچے ہوئے ہاتھوں میں سجائے، مڑے ہوئے گھٹنوں میں دیے! بچوں کی طرح مٹی کے گھڑوں…

Read More

مولانا طالب جوہری

خلوتِ بے نشان میں پھول کھلے نشان کے وحشتِ دل بھی سو گئی چادرِ ماہ تان کے اپنے لباسِ جاں پہ بھی، صاحبو! ٹک نظر کرو ہنستے رہو گے کب تلک ہم کو غریب جان کے خلوتیانِ کنج ہوش تشنہ لبانِ یم بہ دوش میرے حریف تھے مگر لوگ تھے آن بان کے موج بہ موج یم بہ یم بادِ مراد ساتھ تھی ناؤ سے رد نہ ہو سکے فیصلے بادبان کے تیری گلی میں جاگ کر ہم نے بھی جُگ بتائے ہیں ہم پہ بھی فاش ہوں کبھی رنگ…

Read More