یونہی ہم گنگناتے ہیں گھنی شب میں سلیٹی آسماں، گاچی لگے بادل گریزاں وقت کی توجیح کرتے گم شدہ لمحے سمٹتی سردیوںکے استعارے نارسائی کے، اداسی کے اشارے رفتہ موسم کا ’فنون‘ اور لکشمی، دی مال،لارنس، پاک ٹی ہائوس ہر سُو، خالدؔ احمد کی غزل پربحث جاری ہے صحافی شب زدہ خبروں کو عریاں کرتے جاتے ہیں سپاہی اک نیا پیغام لاتے ہیں یہ خالی حرف ہیں؟ وحشت ہے؟ یا کیا ہے؟ (۱) بڑے دکھ سے وہ کہتا ہے: یہ کوئی آسمانی حکم بھی شاید نہیں ہے! پیڑ سے لڑتی…
Read MoreMonth: 2019 اگست
افضل خان
کہانی میں کوئی رد و بدل کر مرا مرنا ابھی بنتا نہیں ہے
Read Moreخلیل رام پوری
پیڑوں کی چھاوں چھوڑ، کسی آب جو پہ بیٹھ تجھ میں نہیں تو عکس میں رعنائی آئے گی
Read Moreجمال احسانی
کیا اور سزا دے گا زیادہ سے زیادہ وہ مجھ کو بھلا دے گا زیادہ سے زیادہ
Read Moreرام ریاض
آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے ہم تیرے انتظار میں پھر بھی کھڑے رہے
Read Moreخالد احمد
کاش کوئی ہمیں یہ بتلا دے کس کے سینے سے لگ کے رونا ہے
Read Moreسید آل احمد
کتنی آنکھیں میری خواہش پہ جھپٹ پڑتی ہیں جب بھی اُس شخص سے ملنے کی فراغت ڈھونڈوں
Read Moreتوصیف تبسم
توصیف! وہ یادوں کا دھواں ہے کہ سرِ بزم چہرے نظر آتے ہیں چراغوں کی لووں میں
Read Moreحفیظ ہوشیار پوری
تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
Read Moreمحشر بدایونی
ابھی سر کا لہو تھمنے نہ پایا ادھر سے ایک پتھر اور آیا
Read More