تشنگی ہے کہ سرابوں میں لیے پھرتی ہے مر ہی جائیں گے، عطا! پیاس اگر بجھ جاۓ
Read MoreMonth: 2019 اگست
کاشف حسین غائر
مجھ سے منسوب ہے غبار مرا قافلے میں نہ کر شمار مرا
Read Moreمحسن اسرار
مرے کس کام کے ہیں اب یہ کوے اور کبوتر عبث برباد گھر کی چاردیواری کریں گے
Read Moreسید حامد یزدانی
کچھ پل کلام چھاوں بھرے روپ سے رہا پھر عمر بھر مکالمہ اک دھوپ سے رہا
Read Moreڈاکٹر یونس خیال
مدتوں بعد کوئی چاپ سنائی دی ہے میرا سایہ ہے، مجھے ڈھونڈنے آیا ہو گا
Read Moreنواب مصطفی خان شیفتہ
کچھ زہر اگل رہی ہے بلبل کچھ زہر ملا ہوا ہے مے میں
Read Moreقابل اجمیری
وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
Read Moreعلامہ طالب جوہری
دیوار گر رہی ہے ہمارے مکان کی پہنچاو بات خضر علیہ السلام تک
Read Moreمفتی صدر الدین آزردہ
اس دردِ جدائی سے کہیں جان نکل جائے آزردہ! مرے حق میں ذرا یوں بھی دعا کر
Read Moreاحمد ساقی
گدائے عشق ہوں، انکار آپ کا حق ہے مگر سلیقے، قرینے سے ٹالیے مجھ کو
Read More