پگڑی اپنی یہاں سنبھال چلو اور بستی نہیں یہ دِلی ہے
Read MoreMonth: 2021 فروری
گلزار ۔۔۔ اک نظم کی سوئی سے
ابرار اعظمی ۔۔۔ قیدی
محمد عابد دل عظیم آبادی
طعنہ زن مت ہو مرے شیشہ و پیمانے پر زاہدو حکمِ شریعت نہیں دیوانے پر
Read Moreآسی الدنی
جہاں اپنا قصہ سنانا پڑا وہیں ہم کو رونا رلانا پڑا
Read Moreسید محمد خاں رند
کیا پہنچے خبر حالِ پریشاں کی ہمارے اس تک کوئی اخبار کا چرچا نہیں جاتا
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ پچھتاوا
میر حسن
زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن فصلِ گل جیتوں کو پھر اگلے برس آتی ہے
Read Moreخواجہ وزیر
دل کہیں اور ہم نے اٹکایا بے وفائوں سے بے وفائی کی
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ وہ گلدستوں میں اشعار لگاتا ہے
وہ گلدستوں میں اشعار لگاتا ہے اور یہاں لہجے پر دھار لگاتا ہے غرقابوں نے دیکھا دریا کا انصاف زندہ مردہ سب کو پار لگاتا ہے کون زمانے کو سمجھائے چلنے دو چلنے والے ہی کو آر لگاتا ہے کہلاتے ہیں دنیا بھر میں ظِل اللہ جن پر چھاتا خدمت گار لگاتا ہے خوشبو قید نہیں رہ سکتی گلشن میں دیکھیں وہ کتنی دیوار لگاتا ہے ماضی سے تا حال مظفرؔ ظالم ہی تاج پہنتا ہے ، دربار لگاتا ہے
Read More