مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفر
کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
