مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفر
کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے
Related posts
-
-
بیدل
از قبولِعام، نتوان زیست مغرورِ کمال آن چہ تحسین دیدہ ی زین قوم دُشنام است و... -
میر تقی میر
شب کو اس کا خیال تھا دل میں گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
