دستِ ہَوا سے پرتوِ ادراک ہو گئے بادل بکھر کے دامنِ صَد چاک ہو گئے
Read MoreMonth: 2021 نومبر
خالد احمد
وہ خوف تھا کہ فقط وہم تھا کہ دُھوکا تھا نہ جانے کیا اسے خود اس سے دور رکھتا تھا
Read Moreخالد احمد
آنکھ کب جھپکے گی ، بکھرے گی یہ زنجیرکہاں اے مرے خوابِ رواں! ہے تری تعبیر کہاں
Read Moreخالد احمد
شہر کا شہر آشنا ٹھہرے اجنبی ایک بھی گلی نہ رہے
Read Moreخالد احمد
روپ کو دھن جانا تو من میں لوبھ گھنیرا پھیل گیا دریا دریا ، صحرا صحرا ، دامن میرا پھیل گیا
Read Moreخالد احمد
اے بے گنہی !تو مرے ہمراہ چلے گی سر لے کے بھی الزام نہ اترے مرے سر سے
Read Moreخالد احمد
اہلِ زنداں کے لیے تازہ ہوا آنے کو ہے شہرِ جاناں سے کوئی تازہ نوا آنے کو ہے
Read Moreخالد احمد
کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی
Read Moreخالد احمد
زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں
Read Moreخالد احمد
کیسی ٹھنڈی ہوا چلی خالد چاند کیا ، جَل بجھے ستارے بھی
Read More