ہم ترا انتظار کھینچتے ہیں اور با صد وقار کھینچتے ہیں زندگی بھی تو اک ستارا ہے آئو اس کا مدار کھینچتے ہیں اشک بہتے ہیں جو بھی آنکھوں سے ان سے دل کا غبار کھینچتے ہیں ہجر کے اک کنویں سے وصل کا ڈول عاشقِ دل فگار کھینچتے ہیں کچھ رفیقوں سے بچ کے رہنے کو گرد اپنے حصار کھینچتے ہیں
Read MoreMonth: 2021 نومبر
مظفر حنفی ۔۔۔ ہر طرف ریت نہ تھی راہ میں دریا تھے کئی
ہر طرف ریت نہ تھی راہ میں دریا تھے کئی اس خرابے میں کبھی اپنے شناسائے تھے کئی اس کو دیکھا تو طبیعت نہ بھری دیکھنے سے جگمگاتا تھا وہی یوں تو ’ستارا‘ تھے کئی آئنہ کہتا تھا دھندلی ہے بصیرت میری دل میں جھانکا تو وہاں عکس ہویدا تھے کئی گرد اڑانے کا مزہ آبلہ پا سے پوچھو ورنہ بسنے کے لئے شہرِ تمنّا تھے کئی لائقِ دید تھا منظر مری غرقابی کا کوئی تنکا نہ بنا، محوِ تماشا تھے کئی وہ جو کھلتے ہی نہ تھے دُزدِ حنا…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔کر گئے ہجرت پرندے پھر چلی ٹھنڈی ہوا
کر گئے ہجرت پرندے پھر چلی ٹھنڈی ہواہے شگوفوں کا دمِ آخر چلی ٹھنڈی ہوا آستیں شبنم نے تَرکی سبزۂ بیگانہ کیغنچۂ نورستہ کی خاطر چلی ٹھنڈی ہوا زرد رو مال اپنا جھٹکا تھا خزاں سے اُس طرفگلستاں سے کہہ کے ’جی حاضر‘ چلی ٹھنڈی ہوا دیکھ لینا بیچ ہی میں دھجیاں اڑ جائیں گیاس طرف مسجد اُدھر مندر ، چلی ٹھنڈی ہوا جب خفا تھیں اس کی یادیں حبس تھا دل میں بہتپھر گھٹا گھر آئیں بالآخر، چلی ٹھنڈی ہوا
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کون اس غم سے رہائی دے مجھے
کون اس غم سے رہائی دے مجھے ہر خوشی جھوٹی دکھائی دے مجھے منکشف کر سوچ سے پہلے کی بات لفظ سے آگے رسائی دے مجھے دل تہوں میں کوئی سرگوشی اُگا فصلِ صبحِ آشنائی دے مجھے لا مکاں بھی آنکھ پُتلی میں کھِلے وہ نگاہِ ماورائی دے مجھے کشتیِ جاں اک کنارے تو لگے درد کوئی انتہائی دے مجھے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ بسم اللہ
بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ روحِ عالم کہ جو زمانوں کی ابتدا ہے کہ جو زمینوں کی ، آسمانوں کی سب جہانوں کی انتہا ہے وہ جوہرِ اعتبار، ہستی جو سب میں شامل بھی ہے مگر سب سے ماورا ہے وہ رشتۂ جسم و جاں خیال و نظر کی بے انت دوریوں پر بھی جو ترا میرا رابطہ ہے وہی جو ٹوٹے دلوں کے گنبد میں حوصلے بانٹتی ندا ہے تلاش کے بے کنار موسم میں یاد جس کی سوال آنکھوں کے طُور تنویرتی ضیاہے اُسی کی چاہت وفا سفر میں…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔سید ریاض حسین زیدی
خدا ہے جس نے کیا ممکنات کو پیدا ہر ایک چیز ، ظواہر ، ثبات کو پیدا وہ موسموں کو تغیر کا رنگ دیتا ہے وہی ہے جس نے کیا دن کو ،رات کو پیدا یہ شرق و غرب ،شمال و جنوب،ارض و سما فقط اسی نے کیا شش جہات کو پیدا چلائے سانس ہمارے،جو چاہے رک جائیں کیا ہے کیسا حیات و ممات کو پیدا اسی نے خلق کیا ہے بڑے قرینے سے صدف سے موتی کو،لفظوں سے بات کو پیدا حدِ کمال کو پہنچا کمال کن فیکون کیا…
Read Moreکوکی گل ۔۔۔ حبس ہی حبس ہے ہوا بھی نہیں
حبس ہی حبس ہے ہوا بھی نہیں اور وہ کھڑکی وہ در کھلا بھی نہیں وہ مسافت کہ پیر زخمی ہیں چاک دامن سلا ہوا بھی نہیں کشتی طوفاں میں گھر گئی میری اور مرے ساتھ ناخدا بھی نہیں وقت کے بھی عجیب چکر ہیں مجھ کو یہ وقت پر ملا بھی نہیں ماں تو بچپن میں مر گئی میری اب مرے ساتھ اک دعا بھی نہیں ہائے! یہ زیست کا سفر کوکی! کٹ گیا ہے مگر کٹا بھی نہیں
Read Moreطلحہ بن زاہد ۔۔۔ تابندہ ترے دل میں اگر پیار رہے گا
تابندہ ترے دل میں اگر پیار رہے گا چہرے پہ تبسم تو مرے یار رہے گا جس دل میں محبت نہیں موجود ہے یارو وہ دل تو ہمیشہ سے ہی بے کار رہے گا جس درد کا حل کوئی بھی کر پایا نہیں ہے اس درد کا حل تیرا ہی دیدار رہے گا وہ دن تو مرے یار نہیں عید سے اب کم جب لب پہ ترے پیار کا اظہار رہے گا ہر دل نہیں واقف ترے غم سے مرے ہمدم یہ دل ترے غم میں مرے سرکار رہے گا…
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں
بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں کہ جیسے کچھ نہ ہوا ، زخمِ دل چھلا ہی نہیں اس ایک شخص کی خوشبو میں باغ باغ رہی جو پھول بن کے مری زلف میں کھلا ہی نہیں کچھ ایسے لوگ بھی اک عمر ساتھ رہتے ہیں ستارے مل گئے قسمت سے دل ملا ہی نہیں کبھی کبھی کی ملاقات میں گیا ، کیا کچھ وہ نرم باتیں وہ جذبوں کا سلسلہ ہی نہیں ہم اپنے ضبط پہ حیراں ہیں شدت غم میں ستارہ پلکوں تک آیا مگر…
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ نامیہ کے لیے
لگانا پڑتا نہیں تل کوئی بھی گال کے ساتھ خدا نے خلق کیا ہے تجھے جمال کے ساتھ زمین ناچ اُٹھے اورستارے رقص کریں قدم اُٹھا کے تُو چلتی ہے سُر کے تال کے ساتھ ترے خرام سے ہر مورنی نے سیکھا ہے کہ کیسے گھنگھرو چھنکتے رہیں گے چال کے ساتھ تو میری آنکھ کا سب سے حسیں نظارہ ہے دکھائی دیتی ہے مجھکو گلوں کے جال کے ساتھ اے مری راجکماری مری فرشتہ صفت غرض تجھے ہے جواہر سے اور نہ مال کے ساتھ میں تجھ سے آنکھ…
Read More