مظفر حنفی

آنگن میں یہ رات کی رانی سانپوں کا گھر کاٹ اسے کمرہ البتہ سونا ہے کونے میں گلدان لگا

Read More

مظفر حنفی

خون للکارتا ہے بڑھ بڑھ کر صاف آواز آ رہی ہے مجھے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رباعیات

مرنا ہے تو بے موت نہ مرنا بابا دم سادھ کے اس پُل سے گزرنا بابا سنتے ہیں کہ ہے موت سفر کا وقفہ اس پار ذرا بچ کے اترنا بابا ۔۔۔ موتی نہ تھے دریا میں تو ہم کیا کرتے آنسو ہی نہیں آنکھ میں غم کیا کرتے ہاتھ آوے کھوکھلے لفظوں کے صدف گہرائی کی رُوداد رقم کیا کرتے ۔۔۔ تقدیر پہ الزام نہیں دھر سکتے خاکے میں سیہ رنگ نہیں بھر سکتے ہر لوح پہ تحریر کہ جینا ہے حرام آواز لگا دو کہ نہیں مر سکتے…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ صور اسرافیل

اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منھ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے ۔ چلو دوستو!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی : جھولنا حاتم کے سر کا۔۔۔

اور حاتم طائی نے جب، اسم اعظم پڑ ھ کے ، ان پر دم کیا۔ پیڑ پر لٹکے ہوئے سر، گر پڑے تالاب میں ، اپنے جسموں سے گلے مل کر، نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔ مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی، شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔ یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ، جسم اور سر کا نہیں ۔ اس واسطے ، اسم اعظم کا اثر جاتا رہا، تب سے ، حاتم طائی کا سر، جھُولتا ہے پیڑ پر۔ اور، دھڑ…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رِستا ہوا بوسہ

میں نے اس کے تھر تھراتے ہونٹ پر، کچھ اس طرح آہستگی سے ، رکھ دیے تھے ہونٹ اپنے ، جیسے چوڑی پر کوئی چوڑی بٹھائے ۔ ذہن میں ہلکی سی شیرینی کا خوش کن ذائقہ ہے ۔ سانس میں خوشبو گھلی ہے ، شہد میں دوبی ہوئی چمپا کی پنکھڑیوں کا عالم، پھر مرے احساس میں کیوں …….. کانچ کا ٹکڑا سا چبھ کر رہ گیا ہے ، میرے ہونٹوں پر، یہ سُرخی کس لیے ہے ؟!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ فیڈنگ پرابلم

شہر میں کرفیو لگا ہے ۔ میری ہمسایہ کے گھر طوفاں بپا ہے ۔ دودھ اس کی چھاتیوں سے بہہ رہا ہے بھوک سے بے حال اس کا بچہ کپڑے نوچتا ہے دودھ کا ٹِن اس طرف خالی پڑا ہے ۔ شہر میں کرفیو لگا ہے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔۔ ہابیل کی منطق

کوٹھے سے ، حوّا کی بیٹی جھانک رہی تھی۔ اس نے اپنا بٹوہ دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے غور کیا۔ پہلے جانے میں پیسے زائد لگتے ہیں ، اور سمَے بھی کم ملتا ہے ۔ لہجے میں ایثار سمو کر، وہ اپنے ساتھی سے بولا: پہلا حق تو تیرا ہے ، بھائی قابیل!

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ڈوبنے جاؤں تو دریا…….

کرارے نوٹ چھن چھن بولتے سکّے ، شیئر، ہُنڈی، چمکتی میز، الماری، نگر کے سیٹھ، افسر اور پھر ان کے حواری، کلرکوں کی زبان پر موٹے موٹے ہندسے جاری، قلم بھاری۔ فضا میں بینک کی ہر سمت اک سنجیدگی طاری۔ نہ جانے کیسے چوکیدار کی آنکھیں بچا کر، نیم خبطی اک بھکاری، کب بڑے صاحب کے کمرے میں در آیا، لگا تھا پیٹھ سے جو پیٹ، دکھلایا۔ کہا: سرکار مل جائے اگر اک نوٹ دس کا، میں چنے لے کر چبا لوں ، پیٹ کا دوزخ بجھا لوں ۔ جواباً…

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ سند باد کی واپسی

فوم ربر کے ایوانوں سے سر ٹکرا کر، لوہے کے تپتے بازاروں سے گھبرا کر، اپنی ذات کی بھول بھلیوں سے اکتا کر، عہدِ نو کے فلسفیوں سے آنکھ بچا کر، فن کاروں کی اُلجھی باتوں سے چکرا کر، سہلانے والے ہاتھوں سے چوٹیں کھا کر، اندر سے باہر کی جانب، سند باد جب واپس لوٹا، اس نے چاروں جانب پھیلی دنیا کو، جب غور سے دیکھا۔ پیدل چلنے والے پہلے سے زاید تھے ! ننگے پھرنے والے پہلے سے زاید تھے !! بھوکوں مرنے والے پہلے سے زاید تھے…

Read More