مظفر حنفی ۔۔۔ سند باد کی واپسی

فوم ربر کے ایوانوں سے سر ٹکرا کر،

لوہے کے تپتے بازاروں سے گھبرا کر،

اپنی ذات کی بھول بھلیوں سے اکتا کر،

عہدِ نو کے فلسفیوں سے آنکھ بچا کر،

فن کاروں کی اُلجھی باتوں سے چکرا کر،

سہلانے والے ہاتھوں سے چوٹیں کھا کر،

اندر سے باہر کی جانب،

سند باد جب واپس لوٹا،

اس نے چاروں جانب پھیلی دنیا کو،

جب غور سے دیکھا۔

پیدل چلنے والے پہلے سے زاید تھے !

ننگے پھرنے والے پہلے سے زاید تھے !!

بھوکوں مرنے والے پہلے سے زاید تھے !!!

Related posts

Leave a Comment