دن چڑھ آیا، چل ہم زاد، میرے بستر پر تو آ جا۔ کالی نفرت، سُرخ عقیدت، بھوری آنکھوں والی حیرت، بھولی بھالی زرد شرافت، نیلا نیلا اندھا پیار، رنگ برنگے غم کے تار، خوشیوں کے چمکیلے ہار، دھانی، سبز، سپید، سنہرے، اپنے سارے نازک جذبے، پھر دن کو تجھ کو سونپے، مصلحتوں کے شہر میں ان کے، لاکھوں ہیں جلّاد۔ دن چڑھ آیا، چل ہم زاد!
Read MoreTag: مظفر حنفی
مظفر حنفی ۔۔۔ مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں
مدافعت میں بھی تلوار اگر اٹھاتا ہوں تو بے قصور کہاں ہوں کہ سر اٹھاتا ہوں خفا ہیں اہلِ فلک میری چیرہ دستی پر ستارے بو کے زمیں سے ضر ر اٹھاتا ہوں مِرا کمالِ ہُنر میری صاف گوئی ہے صعوبتیں بھی اسی بات پر اٹھاتا ہوں ثمر بدست شجر پر چلائے تھے پتھر گِرے ہیں پھل میں انھیں چوم کر اٹھاتا ہوں اگرچہ دل پہ ٹپکتی ہے یاد کی شبنم خفیف ہوں کہ دھواں رات بھر اٹھاتا ہوں گزر گیا وہ بگولہ، وہ ریت بیٹھ گئی میں بیٹھتا ہوں…
Read Moreمظفر حںفی ۔۔۔ کبھی تو صدقہ مرا خاک سے اتارا جائے
کبھی تو صدقہ مرا خاک سے اتارا جائے مجھے بلندیِ افلاک سے اتارا جائے ادھر بھی لاش تڑپتی ہے دفن ہونے کو یہ سر بھی نیزۂ سفاک سے اتارا جائے نہ جانے کب سے زمیں گھومتی ہے محور پر مجھے سنبھال کے اس چاک سے اتارا جائے مِلا یہ حکم کہ سسکاریاں نہ لے کوئی کوئی بھی رنگ ہو پوشاک سے اتارا جائے قریب آؤ کہ مہندی رچی ہتھیلی پر ستارہ دیدۂ غمناک سے اتارا جائے انا کے دم سے ہی آباد ہے خرابۂ جاں اسی کو مسندِ ادراک سے…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے
پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے سر مرا بے سر و سامانی پہ رکھا ہوا ہے عالم الغیب نمائش کو نہیں کرتا قبول آپ کا سجدہ تو پیشانی پہ رکھا ہوا ہے اے ہوا خوش نہ ہو فانوس اگر ہیں بے نور اک دِیا اور ادھر پانی پہ رکھا ہوا ہے ہے تو ہو سامنے انبار پریشانی کا حوصلہ بھی تو پریشانی پہ رکھا ہوا ہے کیا تعجب ہے اگر خاک بسر ہیں ہم لوگ ہم نے تکیہ بھی تو نادانی پہ رکھا ہوا ہے ایک بھی پھول…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر
آگ پر چل کے دکھایا تو کبھی پانی پر گولیاں کھائی ہیں فنکار نے پیشانی پر کون تاریخ میں احوال ہمارا لکّھے ہم تو ٹھوکر بھی لگاتے نہیں سلطانی پر کیا سمجھتا تھا کہ مل جائے گا ثانی اس کا میں تو حیران ہوں آئینے کی حیرانی پر گدگداتا ہے شگوفوں کو وہ پوشیدہ ہات جس نے کانٹوں کو لگایا ہے نگہبانی پر وہ مجھے دولتِ کونین عطا کرتا ہے اس طرف ناز مجھے بے سر و سامانی پر عمر کے آٹھویں عشرے میں کرو سجدۂ شکر آمدِ طبع مظفر…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں
اس روشنیِ طبع نے دھوکا دیا ہمیں اپنے لہو کی آنچ نے جھلسا دیا ہمیں کیوں اتنے چھوٹے خود کو نظر آ رہے ہیں ہم یارب یہ کس مقام پہ پہنچا دیا ہمیں آئے تھے خالی ہاتھوں کو پھیلائے ہم یہاں دنیا نے خالی ہاتھ ہی لوٹا دیا ہمیں ٹھنڈی ہوا نے توڑ دیا تھا درخت سے پھر گرد باد آئے سہارا دیا ہمیں زخمی ہوئے تھے جنگ میں دشمن کے وار سے احباب نے تو زندہ ہی دفنا دیا ہمیں کاغذ کی ناؤ پر تھے ہمیں ڈوبنا ہی تھا…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ بہانہ وفا کا نکالا گیا
بہانہ وفا کا نکالا گیا بہت خون میرا نکالا گیا شرارے اُچھلتے رہے سنگ سے چٹانوں سے دریا نکالا گیا مرا زخم بڑھ جائے گا اور کچھ اگر اب یہ نیزا نکالا گیا بغاوت نہیں دب سکے گی حضور جو کانٹے سے کانٹا نکالا گیا تپکتی تھی دنیا مرے پاؤں میں بمشکل یہ چھالا نکالا گیا محبت سے وہ باز آئے نہیں تو بستی سے کنبہ نکالا گیا
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ خداوندا، یہ پابندی ہٹا کر خوش خرامی دے
خداوندا، یہ پابندی ہٹا کر خوش خرامی دے کہ دریا سر کے بل جائے، سمندر کو سلامی دے نہ ایسے سست ہوں بادل کہ فصلیں زرد ہو جائیں نہ موجوں کو سنامی جیسی بے حد تیز گامی دے میں شاعر ہوں، تمنّا ہے مجھے مقبول ہونے کی مگر مقبولیت سے پہلے مجھ کو نیک نامی دے مری حق گوئی خامی ہے خرد مندوں کی نظروں میں یہ بے حد قیمتی خامی ہے مولا اور خامی دے اگر درکار ہے تاثیر تجھ کو اپنے شعروں میں انھیں رنگت مقامی دے انھیں…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ مر جائے کوئی ان کو غم نئیں ہونا
مر جائے کوئی ان کو غم نئیں ہونا اُن دو قاتل آنکھوں میں نم نئیں ہونا پٹتا ہے تو لاشوں سے پٹ جانے دو دیکھو اس کوچے میں ماتم نئیں ہونا کالا بادل گھور نراشا کا ہوں میں پیارے تم بھی بجلی سے کم نئیں ہونا جنگل کا قانون چلے گا سنتے ہیں بستی میں اب آدم وادم نئیں ہونا ہم بھی استقبال کو جانے والے تھے وہ کہتا ہے کالا پرچم نئیں ہونا قطرہ ہوں تو شبنم جیسے جی لوں گا لوگو مجھ کو دریا میں ضم نئیں ہونا…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ درد نے دل کو گدگدایا تو
درد نے دل کو گدگدایا تو کچھ شرارہ سا تلملایا تو آپ دریا کے ساتھ جاتے ہیں اور وہ لوٹ کر نہ آیا تو دیکھنا، آسماں کی خیر نہیں خاکساری نے سر اُٹھایا تو شاخ کانٹوں بھری سہی لیکن ہاتھ اس نے ادھر بڑھایا تو کیوں اُٹھاتے ہو ریت کی دیوار آ گیا کوئی زیرِ سایہ تو دُور تک لہریں کھِلکھِلانے لگیں اک دِیا نہر میں بہایا تو
Read More