پاؤں تو مسندِ سلطانی پہ رکھا ہوا ہے
سر مرا بے سر و سامانی پہ رکھا ہوا ہے
عالم الغیب نمائش کو نہیں کرتا قبول
آپ کا سجدہ تو پیشانی پہ رکھا ہوا ہے
اے ہوا خوش نہ ہو فانوس اگر ہیں بے نور
اک دِیا اور ادھر پانی پہ رکھا ہوا ہے
ہے تو ہو سامنے انبار پریشانی کا
حوصلہ بھی تو پریشانی پہ رکھا ہوا ہے
کیا تعجب ہے اگر خاک بسر ہیں ہم لوگ
ہم نے تکیہ بھی تو نادانی پہ رکھا ہوا ہے
ایک بھی پھول کھلایا ہے جہاں قدرت نے
ان گِنت کانٹوں کو نگرانی پہ رکھا ہوا ہے
ہم نے سوراخ بھی کشتی میں بہت رکھے ہیں
اس نے دریا کو جو طغیانی پہ رکھا ہوا ہے
شہر میں امن رہے گا کہ بپا ہو گا فساد
سارا قضیہ مری قربانی پہ رکھا ہوا ہے
