کبھی تو صدقہ مرا خاک سے اتارا جائے
مجھے بلندیِ افلاک سے اتارا جائے
ادھر بھی لاش تڑپتی ہے دفن ہونے کو
یہ سر بھی نیزۂ سفاک سے اتارا جائے
نہ جانے کب سے زمیں گھومتی ہے محور پر
مجھے سنبھال کے اس چاک سے اتارا جائے
مِلا یہ حکم کہ سسکاریاں نہ لے کوئی
کوئی بھی رنگ ہو پوشاک سے اتارا جائے
قریب آؤ کہ مہندی رچی ہتھیلی پر
ستارہ دیدۂ غمناک سے اتارا جائے
انا کے دم سے ہی آباد ہے خرابۂ جاں
اسی کو مسندِ ادراک سے اتارا جائے
اُسے چھُپاؤ مظفر سخن کے پردے میں
غلاف کیوں حرمِ پاک سے اتارا جائے
