دل تری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے ان درختوں کی طرح میں بھی ہرا تھا پہلے اب وہی نام جو ہونٹوں پہ نہیں لا سکتے اک وہی نام تو بس حرفِ دعا تھا پہلے تجھ کو دیکھا تو ملی جلوہ نمائی اس کو آئنہ ورنہ کہاں عکس نما تھا پہلے میں جو برباد ہوا خوش ہوئے چہرے کتنے مجھ سے لگتا ہے کہ ہر شخص خفا تھا پہلے سامنے آکے بھی فریاد نہیں سنتا تھا شاید اس شہر میں پتھر کا خدا تھا پہلے لے گیا مانگ…
Read MoreMonth: 2021 نومبر
نعتؐ ۔۔۔ نسیمِ سحر
جو اُس مدینۂ جنّت نشاں کو دیکھ لیا تو گویا حاصلِ کون و مکاں کو دیکھ لیا وہ بام و در تھے عجب نور میں نہائے ہوئے ! کہ جیسے سلسلۂ کہکشاں کو دیکھ لیا اب اَور کیا مُجھے کچھ دیکھنے کی خواہش ہو؟ دیارِ نُور کو ، شہرِاماں کو دیکھ لیا کچھ اَور بڑھ گیا احساسِ تنگیِ داماں جو آپؐ کے کرمِ بے کراں کو دیکھ لیا نہ کر سکا مجھے خائف کبھی کوئی سورج کہ مَیں نے ان کے خنک سائباں کو دیکھ لیا مدینہ دیکھ کے لگتا…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ قطعات
عہد سمیٹا ہے جو میری کرچیوں کو کہیں اب توڑ مت دینا مُجھے تم مِرے نزدیک جب آئے ہو اِتنے کہیں اب چھوڑ مت دینا مُجھے تم ! ۔۔۔۔۔۔ انتظاریہ جانِ من ، تیرے انتظار میں مَیں اور کچھ زہرِ ہجر پی لوں گا جیسے مر مر کے جی رہا ہوں مَیں یونہی مر مر کر کے اَور جی لوں گا ۔۔۔۔۔۔ ’’تُم‘‘ دیکھے تو تھے شہکار کئی حسن کے میں نے اِتنا مَیں کسی سے متأثّر نہ ہؤا تھا جو رنگ مہک اُٹّھے ہیں اب میری غزل میں لگتا…
Read Moreسیدضیا حسین ۔۔۔ گِر جائے گی آخر کو یہ دیوار کِسی دِن
گِر جائے گی آخر کو یہ دیوار کِسی دِن بن جائے گا اِنکار ہی اِقرار کسی دن اِس آس پہ گزرے ہیں کئی سال مہینے آئے گا پلٹ کر وہی اتوار کسی دن مانگیں گے مرادیں سبھی عشّاق یہاں پر بن جائے گا مرقد مِرا دربار کسی دن یوں دُور سے اِس دل کی سدا کیسے سنو گے پاس آئو، سنو، اِس کی یہ گفتار کسی دن سنتے ہیں شِفا ملتی ہے دیدار سے تیرے آ بیٹھیں گے در پر تِرے بیمار کسی دن بچپن سے یہی سوچتے آئے ہیں…
Read Moreعقیدت ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
ڈوبے سفینے پار لگائے رسولؐ نے بگڑے تھے جو بھی کام بنائے رسولؐ نے جو کچھ نہ تھے،وہ آپؐ کے در پر غنی ہوئے یہ معجزے دکھائے عطائے رسولؐ نے جو ناتواں تھے،کوئی انہیں پوچھتا نہ تھا ہمت بندھائی ان کی ثنائے رسولؐ نے بے رہروی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی رستہ دکھایا سیدھا دعائے رسولؐ نے صحت کی دولتوں سے نوازے گئے علیل فیضان کر دیا ہے ردائے رسولؐ نے جو مضمحل تھے،عضو معطل تھے ،ہر طرح ڈھارس بندھائی ان کی شفائے رسولؐ نے کسب معاش کوئی ہو…
Read Moreشبہ طراز ۔۔۔ میکڈونلڈ کے مضافات میں
کھنکتے قہقہوں کی گونج تھی اور پانچ کا سکّہ، لکیروں کی پکڑ سے خود بخود ڈھیلا ہوا اور گر پڑا — انگلیوں کا لمس اپنی خود ستائی کی پریشاں سوچ میں کاغذ کے ٹکڑوں پر مچلتا ہی رہا- پہیہ بنا— وہ پانچ کا سکّہ اکیلے راستے پر دور تک چلتا گیا— اک غول ننگے اور بھوکے نیند کے مارے ہوئے بچوں کا لپکا اک تصادم زور کا، اور ایک ہاہاکار — اک بڑی گاڑی کا ہارن، اور چمکتا پانچ کا سکّہ گٹر کی گاد میں گُم- اور بھوکے ننگے بچے…
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ جن کے صدمے اٹھائے بیٹھے ہیں
جن کے صدمے اٹھائے بیٹھے ہیں ان کو دل میں بٹھائے بیٹھے ہیں سرنگوں ہے غرور کا پرچم آج سر کو جھکائے بیٹھے ہیں آج رسماً ہی مسکرا دیجے آج تو لوگ آئے بیٹھے ہیں سرخ آنچل ہے، پیلے کنگن ہیں اور مہندی لگائے بیٹھے ہیں تیری چاہت کے ساحلوں سے پرے ہم سمندر اٹھائے بیٹھے ہیں اے فلک! ہم تری بلندی کو اس زمیں سے ملائے بیٹھے ہیں کوئی تاروں کو توڑ لایا ہے کوئی سورج کو لائے بیٹھے ہیں کون ہے محوِ آئنہ داری آئنے چوٹ کھائے بیٹھے…
Read Moreمزمل رضا سارب ۔۔۔ بطاہر تو تیرا وفادار ہوں میں
بطاہر تو تیرا وفادار ہوں میں مگر زندگی تجھ سے بیزار ہوں میں میسر نہیں ہے کوئی راہِ رخصت یہ کیسے قفس میں گرفتار ہوں میں ترا چھوڑ جانا ضروری تھا مجھ کو مری جان! وحشت کا بازار ہوں میں قبیلے کے رستے پہ مردہ پڑا ہے وہ جو کہہ رہا تھا کہ سردار ہوں میں عدالت میں لے آئے کچھ دوست مجھ کو سمجھتے ہیں ان کا طرفدار ہوں میں میسر نہ ہو جس سے سایہ کسی کو کڑی دھوپ میں ایسی دیوار ہوں میں کہیں سن کے سارب…
Read Moreعاطف جاوید عاطف ۔۔۔ کسی غمزدہ سے یوں حالِ دل میاں ایک دم نہیں پوچھتے
کسی غمزدہ سے یوں حالِ دل میاں ایک دم نہیں پوچھتے کہ جو قہقہوں میں دبا ہوا ہو وہ ضبطِ غم نہیں پوچھتے دمِ گفتگو نہیں پوچھتے پسِ گفتگو کے ملال کو کبھی مل بھی لیں وہ تپاک سے تو بھی اُن سے ہم نہیں پوچھتے مری سُرخیوں بھری آنکھ پر مرے رتجگوں پہ سوال کیوں پڑا سامنے ہو جو رختِ نم ، مرے محترم نہیں پوچھتے مرے رازداں مرے زخم کو تری پُرسِشوں نے ہرا کیا کہ جو واقفِ غمِ حال ہوں وہ تو کم سے کم نہیں پوچھتے…
Read Moreشہاب اللہ شہاب ۔۔۔ نام سن کر آنکھ میں اک رنگ بھرجاتا شہاب
نام سن کر آنکھ میں اک رنگ بھرجاتا شہاب پانیوں پر عکس سا پھر تیر جاتا تھا شہاب اس کے ہونٹوں پر تبسم میرے شعلوں کی طرح جس نے مجھ کو آسماں سے ٹوٹتے دیکھا شہاب چونک جاتا تھا میں اکثر دیکھ کر اس شخص کو نام تیرا سن کے گہرا سانس جو لیتا شہاب وہ ملا جب راستے میں اجنبی بن کر ملا کاش! میری روح کو پہچانتا میرا شہاب بات کرتے کرتے اس کے لفظ بھی رونے لگے آنسوؤں میں بھیگتا دیکھا گیا لہجہ شہاب تھی شراب چشم…
Read More