Month: 2021 نومبر
احمد صغیر صدیقی
احمد سبحانی آکاش ۔۔۔ کر لیا اب یہ فیصلہ ہم نے
خاور اعجاز ۔۔۔ یہ کس گلاب کا ہے انتظار ایک جگہ
یہ کس گلاب کا ہے انتظار ایک جگہ کھڑے ہُوئے ہیں جو باغ و بہار ایک جگہ خبر ہے چاروں طرف تازہ پھُول کھِلنے کی اکٹھے ہونے لگے ہیں جو خار ایک جگہ تِری طرف ہے تو میری طرف بھی آئے گی کبھی ٹھہرتی نہیں ہے بہار ایک جگہ ہَوائے دہر پریشاں ہے اِس حقیقت سے چراغ جلتا ہے کیوں بار بار ایک جگہ کہاں کہاں نہیں دُنیا میں ہم سے مجنوں صفت دو چار ایک جگہ ہیں دو چار ایک جگہ حضورِ یار نیا شکوہ دل کو ہے شاید…
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ شکست خوردہ بنا رہے ہیں جہان آدھا
شکست خوردہ بنا رہے ہیں جہان آدھا نئے مسائل پہ اُن کا ہوتا ہے دھیان آدھا اب اس کو تزئین سے مکمل کریں گے بچّے بنا لیا ہے لہو سے اپنے مکان آدھا لرز رہی ہے زمین ساری شکستگی سے چٹخ رہا ہے سروں پہ بھی آسمان آدھا نہ جانے کیوں اُس پہ جرم ثابت کیا گیا ہے دیا تھا ملزم نے تو ابھی تک بیان آدھا اک اور ہجرت کا درد میں نے بھی سہہ لیا ہے گنوا چکا ہے مجھے مرا خاندان آدھا گزار کر تیز تیز دھوپوں…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ قضا رہتی ہے ہر پل زِندگانی کے پسِ پردہ
قضا رہتی ہے ہر پل زِندگانی کے پسِ پردہ حقیقت جیسے مخفی ہو کہانی کے پسِ پردہ بشر خاطر میں کب لاتا ہے تخلیقی مراحل کو بڑھاپا گو ہے اِستادہ جوانی کے پسِ پردہ تغافل ہے اِدھر گر تو اُدھر بے اعتنائی ہے عوامل ایک سے ہیں بدگمانی کے پسِ پردہ مرے شہرِ وفا میں یہ عجب طرزِ خطابت ہے ملے درسِ جفا شیریں بیانی کے پسِ پردہ یہی تو بدنصیبی ہے چمن اُن کے حوالے ہے جو کاٹیں نخلِ نو کو باغبانی کے پسِ پردہ مکافاتِ عمل کی سمت…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ یہ مرے عشق کی شریعت ہے
یہ مرے عشق کی شریعت ہے آپ کو دیکھنا ، عبادت ہے خالقِ دو جہاں کا عاشق ہوں ہر حسیں چیز سے محبت ہے میں ہر انساں سے پیار کرتا ہوں یہ ہی میرے نبیؐ کی سُنت ہے تیری ہر بات مانتا ہوں میں میرے دل پر تری حکومت ہے ہم فقیروں کے واسطے ، تیرا نظر آنا بھی اک سخاوت ہے اے پری چہرہ! تجھ کو کیا معلوم تیرے جلوئوں میں کیا اشارت ہے آپ کو دیکھتے ہیں ، جیتے ہیں زندگی آپ کی عنایت ہے اہلِ دنیا کو…
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سُندر چہرے
اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سُندر چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اکثر چہرے دم بخود رہ گیا سفّاک لُٹیروں کاگروہ گھر سے جب نکلے محافظ بھی چھپاکر چہرے آج یادوں کے شفق رنگ دریچے مت کھول ورنہ سونے نہیں دیں گے تجھے شب بھر چہرے سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا سینے میں جب کبھی اُبھرے ہیں یادوں کے اُفق پر چہرے دل میں جب خواہشِ دیدار کے شعلے بھڑکے کھا گیا وقت کا بے رحم سمندر چہرے ہم نے بدلیں نہ کسی راہ پہ اپنی آنکھیں گو…
Read Moreسرفراز عارض ۔۔۔ سپاسِ بندگاں ابھی
سپاسِ بندگاں ابھی ادا کرو میاں ابھی گرا ہی چاہتا ہے کیا سروں پہ آسماں ابھی تَرَس نہ مجھ پہ کھائیے خُلوصِ دوستاں ابھی یہ اختیارِ جبر ہے ـــکھڑا ہوں میں جہاں ابھی جبینِ عجز پہ مرا ہے داغ کا نشاں ابھی پڑا رہے یہ نور سا حجاب درمیاں ابھی نہ ڈال اس پہ بارِ عشق یہ دل ہے ناتواں ابھی جھنجھوڑتا ہوں وقت کو وہ بوڑھا میں جواں ابھی میں سُن رہا ہوںاَن سُنی سُنی سی داستاں ابھی اُڑی ہیں اُن لبوں سے دو وہ شوخ تِتلیاں ابھی چُرا…
Read Moreنعت ۔۔۔ ریاض مجید
خیال و خواب میں بارش ہے نِت اجالوں کی سکوں کی زندگی ہے ہم مدینہ حالوں کی خبر کسی کو کہاں؟ جو خوشی ہے بخت اُن کا حیات خلد کی صورت ہے‘ نعت والوں کی مدینے آیا ہوں جب سے‘ مسلسل آمد ہے ثنائی جذبوں کی اور نعتیہ خیالوں کی عطا جو ہوتے ہیں اُس دَر سے گاہ گاہ ہمیں عجب ہیں لذتیں اُن نُور کے نوالوں کی ہوئے نصیب ہمیں بھی حرم کے کچھ دن رات یہی عطا ہے بہت‘ جانے والے سالوں کی فرشتے عرش کے بھی مانگتے…
Read More