اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سُندر چہرے
وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اکثر چہرے
دم بخود رہ گیا سفّاک لُٹیروں کاگروہ
گھر سے جب نکلے محافظ بھی چھپاکر چہرے
آج یادوں کے شفق رنگ دریچے مت کھول
ورنہ سونے نہیں دیں گے تجھے شب بھر چہرے
سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا سینے میں
جب کبھی اُبھرے ہیں یادوں کے اُفق پر چہرے
دل میں جب خواہشِ دیدار کے شعلے بھڑکے
کھا گیا وقت کا بے رحم سمندر چہرے
ہم نے بدلیں نہ کسی راہ پہ اپنی آنکھیں
گو وہ ملتے رہے ہر بار بدل کر چہرے
جانے کیا سوچ کے ہاتھ اس نے ستم سے کھینچا
خوں میں تر ہونے لگے جب تہہِ خنجر چہرے
لوگ چپ چپ ہیں تو ہر گز انھیں بے حس نہ کہو
شدتِ غم سے بھی بن جاتے ہیں پتھر چہرے
اب بھی ماضی کو بھلانے میں ہوں مصروف جلال
اب بھی ہیں میرے تعاقب میں برابر چہرے
