ایک دل ہی جو رازداں ہوتا تب نہ شاید وہ بدگماں ہوتا گر نہ دُکھڑا مِرا بیاں ہوتا پھر تو جی کا بہت زیاں ہوتا کیسے تجھ کو تلاش کر پاتا ہر کسی پر تِرا گماں ہوتا روگ ہوتا نہ جان کو لاحق گر نہ تیرا کہیں نشاں ہوتا اِن جہانوں سے ہم نے کیا لینا ایک اپنا ہی بس جہاں ہوتا سیر اپنی تو روز ہو جاتی پاس‘ گر کوئے دلبراں ہوتا اپنی قسمت خوشی سے ہے خالی چُپ نہ رہتا تو نوحہ خواں ہوتا مصلحت کوش گر نہ…
Read MoreTag: Syed Zia Hussain
سید ضیا حسین ۔۔۔ اب تو بس یہ کمائیاں ہوں گی
اب تو بس یہ کمائیاں ہوں گی ہر جگہ خود ستائیاں ہوں گی آج محفل میں جا نہیں پایا آج میری بُرائیاں ہوں گی اِس وبا کو تو ختم ہونے دو ہر طرف رُونمائیاں ہوں گی ایسے جانے سے، اے مِری ہمدم! سوچ لے، جگ ہنسائیاں ہوں گی سوچ کر ہی یہ جان جاتی ہے کتنی لمبی جدائیاں ہوں گی سردیاں آ گئی ہیں اب جانم! خشک میوے، رضائیاں ہوں گی اِس بڑھاپے میں، ایسے موسم میں درد ہوں گے، دوائیاں ہوں گی کوند جائے گی ایک بجلی سی ہاتھوں…
Read Moreسید ضیا حسین ۔۔۔ ایک لڑکی
بین الاقوامی تعلقات میں گریجویشن کرتی ہوئی لڑکییہ تو جانتی ہو گیکہ اکثر دوستیاں دائمی نہیں ہوتیںیہ بنتی ہیں، بگڑتی ہیںبس مفادات کی خاطریہ دوستی تب تک ہی رہتی ہےجب تک کسی کو حاجت رہتی ہے کسی کیورنہ کچھ نہیںدوستی کے یہ بندھنپل میں ٹوٹ جاتے ہیںدوست بن جاتے ہیں دشمناور دشمن دوست بنتے ہیں یہ لڑکییہ بھی جانتی ہو گیکہ چھوٹوں کی تو کوئی مرضی نہیں ہوتیانھیں توچاہنا ہے بس وہ ہیجو چاہتے ہیں بڑے اُن کےانھیں تو کرنا ہے بس وہ ہیجو کہتے ہیں بڑے ان کےانھیں تو…
Read Moreسید ضیا حسین ۔۔۔ اُس کی خفگی بھی تعلق کی علامت نکلی
اُس کی خفگی بھی تعلق کی علامت نکلی میں نے نفرت جسے سمجھا تھا، محبت نکلی اُسکی مُسکان سے خوش ہوتی ہے کتنی خلقت اُسکے مُسکانے کی عادت بھی عبادت نکلی وہ جو تھی پہلی ملاقات میں بیٹھی گُم صم وہ تو بس چار دنوں میں ہی قیامت نکلی میرا تُو یار بنا بھی تو اُسی کی خاطر جس کو سمجھا تھا قرابت، وہ رقابت نکلی نام دیتے ہیں جسے وصل کا اکثر شاعر وہ تو فطرت کی عطا کردہ جبلت نکلی گر خدا ہوتا تو مل جاتی معافی مجھ…
Read Moreسیدضیا حسین ۔۔۔ گِر جائے گی آخر کو یہ دیوار کِسی دِن
گِر جائے گی آخر کو یہ دیوار کِسی دِن بن جائے گا اِنکار ہی اِقرار کسی دن اِس آس پہ گزرے ہیں کئی سال مہینے آئے گا پلٹ کر وہی اتوار کسی دن مانگیں گے مرادیں سبھی عشّاق یہاں پر بن جائے گا مرقد مِرا دربار کسی دن یوں دُور سے اِس دل کی سدا کیسے سنو گے پاس آئو، سنو، اِس کی یہ گفتار کسی دن سنتے ہیں شِفا ملتی ہے دیدار سے تیرے آ بیٹھیں گے در پر تِرے بیمار کسی دن بچپن سے یہی سوچتے آئے ہیں…
Read More