سید ضیا حسین ۔۔۔ ایک دل ہی جو رازداں ہوتا

ایک دل ہی جو رازداں ہوتا تب نہ شاید وہ بدگماں ہوتا گر نہ دُکھڑا مِرا بیاں ہوتا پھر تو جی کا بہت زیاں ہوتا کیسے تجھ کو تلاش کر پاتا ہر کسی پر تِرا گماں ہوتا روگ ہوتا نہ جان کو لاحق گر نہ تیرا کہیں نشاں ہوتا اِن جہانوں سے ہم نے کیا لینا ایک اپنا ہی بس جہاں ہوتا سیر اپنی تو روز ہو جاتی پاس‘ گر کوئے دلبراں ہوتا اپنی قسمت خوشی سے ہے خالی چُپ نہ رہتا تو نوحہ خواں ہوتا مصلحت کوش گر نہ…

Read More

سید ضیا حسین ۔۔۔ پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

پاس رہتا نہیں تمہارے مَیں جان جاؤں نہ عیب سارے مَیں اِک زمانہ بنا لیا دشمن اور کتنے سہوں خَسارے مَیں نیند تو ساتھ ہی گئی اُس کے گنتا رہتا ہوں اب ستارے مَیں آنکھ ملتا ہی رہ گیا اُس دم دیکھ پایا نہیں نظارے مَیں کھول کر خود نہ پڑھ سکا اِن کو بانٹتا ہی رہا سپارے مَیں بات کھُل کر کیا کرو مجھ سے کُچھ سمجھتا نہیں اِشارے مَیں کوئی جلتا ہے گر، جلے بے شک بھر چکا شعر میں شرارے مَیں اک حقیقت ہے، چھوڑ کر خوش…

Read More