اشرف کمال ۔۔۔ گہری جھیل، سمندر، بہتا دریا اچھا لگتا ہے

گہری جھیل، سمندر، بہتا دریا اچھا لگتا ہے اس کی باتیں اس کا میٹھا لہجہ اچھا لگتا ہے لوگوں کی اک بھیڑ میں اس کو آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں سب چہروں میں اس کا ہنستا چہرا اچھا لگتا ہے تم جب میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر چلتے ہو دھوپ ہو چاہے چھاؤں چلتے رہنا اچھا لگتا ہے مشکل میں اس کے لفظوں سے مجھ کو حوصلہ ملتا ہے اس کا پیار سے مجھ کو اپنا کہنا اچھا لگتا ہے باہر آکر رات کے اندھے کمرے کی تاریکی…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ اشرف کمال

سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔۔ اشرف کمال

سر چھپانے کے لیے دھوپ میں گھر دیتا ہے وہ خدا ہے جو اندھیروں کو سحر دیتا ہے میرے بگڑے ہوئے حالات سنوارے گا ضرور وہ جو سوکھے ہوئے پیڑوں کو ثمر دیتا ہے میرا سرمایہ بنے حمد وثنا کے آداب میرا خالق مجھے لفظوں کا ہنر دیتا ہے کس محبت سے وہ سنتا ہے دعائیں سب کی ٹوٹے پھوٹے ہوئے لفظوں میں اثر دیتا ہے جستجو تیری کہاں بیٹھنے دیتی ہے مجھے تو مجھے روز نیا اذنِ سفر دیتا ہے حوصلہ مند کو مایوس نہیں کرتا کبھی وہ گزرنے…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ غم کو بینائی ، میں اندھوں کو بصارت دیتا

غم کو بینائی ، میں اندھوں کو بصارت دیتا دینے والا مجھے اتنی تو مہارت دیتا میں بھی تو بکھرا پڑا تھا وہیں سامان کے پاس وہ مجھے خود کو اٹھانے کی تو مہلت دیتا میری آنکھیں بھی جھلکتیں ترے خال وخد سے میں وہ تصویر کو رنگوں کی تمازت دیتا اس کے دل کے کسی کونے میں مہکتی رہتی وہ مری یاد کو اتنی تو اجازت دیتا شہر کا شہر کھڑا تھا مرے رستے میں کمال کون واپس مجھے جانے کی اجازت دیتا

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ درد کے ساتھ جو زندان میں رہتا ہوں میں

درد کے ساتھ جو زندان میں رہتا ہوں میں کیا یہ کم ہے کہ ترے دھیان میں رہتا ہوں میں کوئی روزن ہے کہیں بھی نہ ہوا ہے جس میں ایسا لگتا ہے کسی کان میں رہتا ہوں میں لوگ اب تیرے تعلق سے مجھے جانتے ہیں اب ترے نام کی پہچان میں رہتا ہوں میں ایک لمحے کو بھی مایوس نہیں ہوتا ہوں اک ترے ملنے کے امکان میں رہتا ہوں میں خواب میں سامنے رہتا ہے تمھارا چہرا رات بھر ایک پرستان میں رہتا ہوں میں تیرے خاکے…

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ دل تری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے

دل تری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے ان درختوں کی طرح میں بھی ہرا تھا پہلے اب وہی نام جو ہونٹوں پہ نہیں لا سکتے اک وہی نام تو بس حرفِ دعا تھا پہلے تجھ کو دیکھا تو ملی جلوہ نمائی اس کو آئنہ ورنہ کہاں عکس نما تھا پہلے میں جو برباد ہوا خوش ہوئے چہرے کتنے مجھ سے لگتا ہے کہ ہر شخص خفا تھا پہلے سامنے آکے بھی فریاد نہیں سنتا تھا شاید اس شہر میں پتھر کا خدا تھا پہلے لے گیا مانگ…

Read More