گہری جھیل، سمندر، بہتا دریا اچھا لگتا ہے
اس کی باتیں اس کا میٹھا لہجہ اچھا لگتا ہے
لوگوں کی اک بھیڑ میں اس کو آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں
سب چہروں میں اس کا ہنستا چہرا اچھا لگتا ہے
تم جب میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر چلتے ہو
دھوپ ہو چاہے چھاؤں چلتے رہنا اچھا لگتا ہے
مشکل میں اس کے لفظوں سے مجھ کو حوصلہ ملتا ہے
اس کا پیار سے مجھ کو اپنا کہنا اچھا لگتا ہے
باہر آکر رات کے اندھے کمرے کی تاریکی سے
جلتا بجھتا جگنو روشن تارا اچھا لگتا ہے
وہ جو کچھ بھی پہنے وہ اس کی قامت پر سجتا ہے
اس کے کھلتے رنگ پہ کالا کُرتا اچھا لگتا ہے
