گہری جھیل، سمندر، بہتا دریا اچھا لگتا ہے اس کی باتیں اس کا میٹھا لہجہ اچھا لگتا ہے لوگوں کی اک بھیڑ میں اس کو آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں سب چہروں میں اس کا ہنستا چہرا اچھا لگتا ہے تم جب میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر چلتے ہو دھوپ ہو چاہے چھاؤں چلتے رہنا اچھا لگتا ہے مشکل میں اس کے لفظوں سے مجھ کو حوصلہ ملتا ہے اس کا پیار سے مجھ کو اپنا کہنا اچھا لگتا ہے باہر آکر رات کے اندھے کمرے کی تاریکی…
Read MoreTag: ashraf kamal ashaar
اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)
میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…
Read More