اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے
میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے

کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے
چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے

میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی
درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے

ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک
ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے

کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں
مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے

کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان
اس بڑے شہر میں کچھ دھوپ تو سر پر آئے

چاندنی ہے تو بکھر جائے مرے چاروں طرف
وہ اگر رنگ ہے تو پھول سے باہر آئے
عین ممکن ہے کبھی رات کو تنہا پاکر
تم سے ملنے کے لیے چاند اتر کر آئے

جس میں موجود تھا ہنستا ہوا پیکر تیرا
میری آنکھوں میں پھر اک بار وہ منظر آئے

Related posts

Leave a Comment