کیا تماشا ہے کہ صبح و شام رازِ آسماں
خاک پر کھلتا ہے لیکن سربسر کھلتا نہیں
Related posts
-
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا... -
ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر... -
جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے...
