جلیل عالی ۔۔۔ منقبت حضرت علیؓ

غلو کی کیا ضرورت ہے علیؓ کی مدح خوانی میں
کمی ہے کون سے اعجاز کی اِس شہ کہانی میں

وہ جب لب کھولتا تو حیرتوں سے دیکھتی دانش
معانی کے سمندر موجزن سادہ بیانی میں

ارادوں کی جوانانہ چمک پیری کے ماتھے پر
بصیرت کی بزرگانہ دمک چشمِ جوانی میں

عطا اس کو ہوئی تھی ایسی بینائی کہ وہ جس سے
خدا کو دیکھ لے کوشش کی رمزِ رایگانی میں

مقامِ بابِ شہر علم اُس کے نام ہونا تھا
اک ایسا فہمِ فرقانی تھا اُس کی ترجمانی میں

وہ آئینِ الٰہِ مصطفی کا ایسا شیدا تھا
کہ کر دی جان بھی قربان اس کی پاسبانی میں

کرم اْس کی محبت کا یہ کیا کم ہے کہ ہر لمحے
ہمارے ساتھ رہتا ہے وہ اپنی غائبانی میں

علی کی یاد سینے میں کرو آباد پھر دیکھو
کہ رستے خیر کے کھلتے ہیں کیا کیا زندگانی میں

میں جب گریہ کناں ہوتا ہوں فرطِ شوق سے عالی
نظر آتے ہیں عکس اُس کے مجھے اشکوں کے پانی میں

Related posts

Leave a Comment