دانش عزیز ۔۔۔۔ تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو

تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو
سامنے والا تو چاہے گا کہ آدھا کھیلو

وصل کی شرط پہ شطرنج وہ ہاری تو کہا
میں نہیں کھیلتی تم مجھ سے دوبارہ کھیلو

کپکپاتی ہوئی پوروں کو سنبھالو اپنی
موت کے کھیل کو اچھے سے مسیحا کھیلو

اس لیے آج تلک جیت سے واقف نہیں میں
حکم صادر تھا کہ ہر کھیل ہی تنہا کھیلو

فائدہ کیا حدِ فاصل سے تجاوز کر کے
ٍجتنا آتا ہے تمہیں کھیلنا اتنا کھیلو

آخری سانس تلک ہجر نبھاؤ یارو
جاں ہتھیلی پہ دھرو اور اسے پورا کھیلو

تُو تو شاطر ہے ترے ساتھ نہ کھیلوں گی کبھی
کھیلنا ہے تو مرے ساتھ بھی مجھ سا کھیلو
دس تلک گنتا ہوں میں گنتی کہیں چھپ جاؤ
پھر سے تم آنکھ مچولی مرے یارا کھیلو

عشق میں بخیے ادھڑتے ہوئے دیکھے دانش
اس لیے مشورہ دیتا ہوں کہ تم نا کھیلو

Related posts

Leave a Comment