اک حشر کا سماں تھا ، کنارے فرات کے ہر شخص نوحہ خواں تھا ، کنارے فرات کے اک ضد لگی ہوئی تھی ،کہ بہنا ہے ساتھ ساتھ دریائے خوں رواں تھا ، کنارے فرات کے خنجر کا ، خوں کا ، خاک کا ، پانی کا ، پیاس کا ہر شے کا امتحاں تھا ، کنارے فرات کے گنتی کے جانثار تھے ، پر جانثار تھے انبوہِ دشمناں تھا ، کنارے فرات کے آنکھوں سے دیکھ کر بھی زمیں پر گرا نہیں یہ کیسا آسماں تھا ، کنارے فرات…
Read More