اکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں

زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا … अकरम नासिर

جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا وہ حصہ پھر سناؤ داستاں کا یہاں بارش سے پہلے بستیاں تھیں مکیں ہے کھوج میں کچے مکاں کا جسے سورج سمجھتا ہے زمانہ دہانہ ہے کسی آتش فشاں کا ترا ملنا بچھڑنا یاد ہے بس مجھے بھولا ہے سب کچھ درمیاں کا عجب خواہش افق پر جا کے دیکھوں گلے ملنا زمیں سے آسماں کا جو میرے اور اس کے درمیاں ہے وہی رشتہ ہے اکرم جسم و جاں کا

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ اکرم ناصر

لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات حضور آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات حضور آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے زمین و آسماں یعنی تمام کائنات حضور آپ ہی کے دین کو ہمیشگی ہے حضور آپ ہی کے دین کے لئے ہے ثبات یہ شہر ، شہرِ مدینہ ہے ، عام شہر نہیں یہاں سکون سے چلتا ہے کاروبارِ حیات

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں

آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں اک دوسرے کو ہم نے کبھی، بھولنا نہیں ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد بیکار کھپ رہا ہے ابھی ،بھولنا نہیں رکھ لینا لاج قبر میں ، میدانِ حشر میں اس امتی کو میرے نبی ، بھولنا نہیں اس معرکے میں ہم نے اٹھائے ہیں لاکھ زخم یہ معرکہ بھی ہم کو کبھی ، بھولنا نہیں رکھنا ہے یاد ، کلمۂ توحید لاالہ کہتے ہیں مجھ سے میرے نبی، بھولنا نہیں

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ تحریک نفاذ اردو کے سلسلہ میں لکھی گئی نظم

تحریک نفاذ اردو کے سلسلہ میں لکھی گئی نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فصاحت کے ، بلاغت کے ، جو موتی رول سکتا ہو مرا محبوب ایسا ہو ، جو اردو بول سکتا ہو مرا محبوب ایسا ہو ، جو اردو بول سکتا ہو جو کر سکتا ہو باتیں استعاروں اور کنایوں میں جو رمزوں اور تشبیہوں کی گرہیں کھول سکتا ہو مرا محبوب ایسا ہو، جو اردو بول سکتا ہو جسے معلوم ہو،کیا ، کب ،کہاں، ہے کس طرح کہنا جو اپنی بات کو کرنے سے پہلے، تول سکتا ہو مرا محبوب…

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ حقیقت اور ہوتی ہے ،فسانہ اور ہوتا ہے

حقیقت اور ہوتی ہے ،فسانہ اور ہوتا ہے دلوں میں پھول کھلنے کا زمانہ اور ہوتا ہے وہ کہتا ہے،کہ پتھر کا زمانہ لوٹ آئے گا سمجھتا ہے ،کہ پتھر کا زمانہ اور ہوتا ہے میں اس کی بات کو ، بس بات کی حد تک سمجھتا تھا سمجھتا تھا ، بچھڑنے کا بہانہ اور ہوتا ہے وہ جس سے بات کرتا ہے، حقیقت میں نہیں کرتا حقیقت میں نہیں کرتا ، نشانہ اور ہوتا ہے یہی ہے فرق کٹیا اور محل کے رہنے والوں میں ہمارا اور ان کا…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اکرم ناصر

ہم خدا کو ہی خدا کہتے ہیں آپ کو اس کی عطا کہتے ہیں ہے وہی آپ کا جھوٹا پانی سب جسے آبِ بقا کہتے ہیں ان کی چوکھٹ کو جو چھو کر آئے ہم اسے باد صبا کہتے ہیں زہر آلود ہوا کرتی تھی شہر کی آب و ہوا کہتے ہیں لوگ کہہ دیتے ہیں خوشبو اور ہم تیرے کوچے کی ہوا کہتے ہیں کوئی لوٹا نہیں در سے خالی میں نہیں سارے گدا کہتے ہیں آپ ہی تو ہیں مجسم قرآں جو یہ کہتے ہیں بجا کہتے ہیں…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اکرم ناصر

ہو مجھ کو عطا اذنِ ملاقات نبی جی کرنا ہے مجھے آپ سے اک بات نبی جی رہتا ہوں شب و روز میں اک خوف کی زد میں دھڑکا سا لگا رہتا ہے دن رات نبی جی چھٹتے ہی نہیں دل سے مرے درد کے بادل رکتی ہی نہیں آنکھ کی برسات نبی جی کب تک ہمیں پسنا ہے یونہی غیر کے ہاتھوں کب تک نہیں بدلیں گے یہ حالات نبی جی چالاک بہت ہیں تری امت کے یہ دشمن کر جائیں نہ امت سے کوئی ہاتھ نبی جی

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ

لیتا ہے تیرا کیا بھلا بوڑھا شجر نہ کاٹ اس پر ہیں دیکھ کتنے پرندوں کے گھر نہ کاٹ اچھا ہے کام ، شوق سے پودے نئے لگا لیکن خدا کا نام ، تناور شجر نہ کاٹ کرنے دے انحصار سبھی کو اڑان پر منصف ہے تو،کسی بھی پرندے کے پر نہ کاٹ اکرم خدا کا نام کہیں گھر بنا کے بیٹھ جیون سفر کو اس طرح تو در بدر نہ کاٹ

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ کربلا والوں کے لیے

اک حشر کا سماں تھا ، کنارے فرات کے ہر شخص نوحہ خواں تھا ، کنارے فرات کے اک ضد لگی ہوئی تھی ،کہ بہنا ہے ساتھ ساتھ دریائے خوں رواں تھا ، کنارے فرات کے خنجر کا ، خوں کا ، خاک کا ، پانی کا ، پیاس کا ہر شے کا امتحاں تھا ، کنارے فرات کے گنتی کے جانثار تھے ، پر جانثار تھے انبوہِ دشمناں تھا ، کنارے فرات کے آنکھوں سے دیکھ کر بھی زمیں پر گرا نہیں یہ کیسا آسماں تھا ، کنارے فرات…

Read More