اکرم ناصر ۔۔۔ جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا … अकरम नासिर

جہاں تھا ذکر برق و آشیاں کا
وہ حصہ پھر سناؤ داستاں کا

یہاں بارش سے پہلے بستیاں تھیں
مکیں ہے کھوج میں کچے مکاں کا

جسے سورج سمجھتا ہے زمانہ
دہانہ ہے کسی آتش فشاں کا

ترا ملنا بچھڑنا یاد ہے بس
مجھے بھولا ہے سب کچھ درمیاں کا

عجب خواہش افق پر جا کے دیکھوں
گلے ملنا زمیں سے آسماں کا

جو میرے اور اس کے درمیاں ہے
وہی رشتہ ہے اکرم جسم و جاں کا

Related posts

Leave a Comment