زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…
Read MoreTag: اکرم ناصر کی نعت
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ اکرم ناصر
لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات حضور آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات حضور آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے زمین و آسماں یعنی تمام کائنات حضور آپ ہی کے دین کو ہمیشگی ہے حضور آپ ہی کے دین کے لئے ہے ثبات یہ شہر ، شہرِ مدینہ ہے ، عام شہر نہیں یہاں سکون سے چلتا ہے کاروبارِ حیات
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں
آؤ کریں یہ وعدہ سبھی، بھولنا نہیں اک دوسرے کو ہم نے کبھی، بھولنا نہیں ممکن ہے بھول جائے کبھی ایک عمر بعد بیکار کھپ رہا ہے ابھی ،بھولنا نہیں رکھ لینا لاج قبر میں ، میدانِ حشر میں اس امتی کو میرے نبی ، بھولنا نہیں اس معرکے میں ہم نے اٹھائے ہیں لاکھ زخم یہ معرکہ بھی ہم کو کبھی ، بھولنا نہیں رکھنا ہے یاد ، کلمۂ توحید لاالہ کہتے ہیں مجھ سے میرے نبی، بھولنا نہیں
Read More