میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی بخدا شہر میں اک جنگ بپا ہو جاتی بس اسی وجہ سے دو بار مَیں ناکام ہوا پاس ہوتا مَیں ، تو استانی جدا ہو جاتی ایک ثروت تھا سمندر میں گرا ، ڈوب گیا وہ نہ گرتا تو یہاں موت رہا ہو جاتی خودکشی کرتے سمے خط نہیں چھوڑا میں نے ایسا کرنے سے مری موت خفا ہو جاتی ایک طرفہ کی محبت میں بکھرنے والے سب یہی کہتے ہیں اے کاش عطا ہو جاتی یہ گزارش ہے سخن کی کہ…
Read More