عثمان حنیف ۔۔۔ میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی ۔۔۔ उस्मान हनीफ़

میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی
بخدا شہر میں اک جنگ بپا ہو جاتی

بس اسی وجہ سے دو بار مَیں ناکام ہوا
پاس ہوتا مَیں ، تو استانی جدا ہو جاتی

ایک ثروت تھا سمندر میں گرا ، ڈوب گیا
وہ نہ گرتا تو یہاں موت رہا ہو جاتی

خودکشی کرتے سمے خط نہیں چھوڑا میں نے
ایسا کرنے سے مری موت خفا ہو جاتی
ایک طرفہ کی محبت میں بکھرنے والے
سب یہی کہتے ہیں اے کاش عطا ہو جاتی

یہ گزارش ہے سخن کی کہ ہماری یہ غزل
اس کی دہلیز کے طائر کی نوا ہو جاتی

۔۔۔۔۔۔

وہ ہم سے اپنی وفا کی قبور مانگتے ہیں
جو کوئی دے نہیں پاتا ، حضور مانگتے ہیں
ہمارے ذہن کا ادراک کھو چلا کیونکہ
یہ عشق جی ، مرا مجھ سے شعور مانگتے ہیں
ہمارے درد کا آوازہ اتنا عمدہ ہے
ہمارے نالے کو سارے طیور مانگتے ہیں
کھلے کھلے سے نہیں کرتے رسمِ عشق و جنوں
ہم اس کے نام کو بینِ سطور مانگتے ہیں
تغیرات ضروری ہیں زندگی کے لیے
سو ہم بھی تھوڑے نئے سے فتور مانگتے ہیں
ہمارا ساقی ہے ایسے کمال کا حامل
جو مانگتے نہ ہوں وہ بھی ضرور مانگتے ہیں
ترا سکوت مرے شور کے مماثل ہے
کہ دونوں مجھ سے شراب و سرور مانگتے ہیں
ہمارے حضرتِ واعظ بھی کتنے سادہ ہیں
جو حکمِ یار کی تکمیل ، حور مانگتے ہیں
سنا ہے کل میاں عثماں بھی چل دیے مسجد
تو گویا جام سے تھک کر طہور مانگتے ہیں

Related posts

Leave a Comment