اس بار ہاتھ تھام کے موقع پرست کا دیکھا ہے خواب رینگنے والے نے جست کا نزدیک آ چکی ہے وہ آواز دور کی اب وقت ہی کہاں ہے کسی بندوبست کا بہتر یہی کہ خود سے کیے جاؤں میں ادھار احسان کیوں اٹھاؤں کسی چیرہ دست کا آتا ہوں اس طرف بھی تماشہ تو دیکھ لوں وعدہ ہر ایک یاد ہے یومِ الست کا اس بار آئنہ ہے مقابل سو خود کو میں عادی بنا رہا ہوں ابھی سے شکست کا سچ جس کو ناگوار ہو اٹھ جائے شوق…
Read More