افضل گوہر

چندلوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا

Read More

افضل گوہر

چھاؤں تو پہلے ہی بہت کم تھی پیڑ بھی دھوپ کا بنا دیا ہے

Read More

افضل گوہر ۔۔۔ تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے

تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے کبھی کبھی تو قدم آسماں پہ پڑتا ہے یہ تیر یوں ہی نہیں دشمنوں تلک جاتے بدن کا سارا کھچاؤ کماں پہ پڑتا ہے تُو میرے سامنے آیا نہ کر عدو بن کر کہ ہر نشانہ مرا اب نشاں پہ پڑتا ہے تجھے زمین کے بارے میں علم ہے تو بتا اِس آسمان کا سایہ کہاں پہ پڑتا ہے اِدھر میں پاؤں اُٹھاتا ہوں اور اُدھر گوہر غبار سا صفِ سیاّرگاں پہ پڑتا ہے

Read More

افضل گوہر ۔۔۔ اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے

اب کیا تمہیں بتائیں کہ کب خاک ہو گئے تب پوچھنے کو آئے ہو جب خاک ہو گئے اک گرد تھی کہ پڑ گئی اُجلے لباس پر پھر یوں ہوا کہ نام ونسب خاک ہو گئے مرتے ہوؤں نے سانس لئے اپنے آخری اور اْس کے بعد نام ونسب خاک ہو گئے کل تک میں دیکھتا تھا یہاں کیسے کیسے لوگ اک ایک کرکے آخرش سب خاک ہو گئے اْن کے بدن پہ کون سی مٹی کے رنگ تھے مرنے سے جن کے عارض و لب خاک ہو گئے

Read More

افضل گوہر راؤ… ایسا بھی کون یاد مجھے آیا پیاس میں

ایسا بھی کون یاد مجھے آیا پیاس میںپانی لہو سے سرخ ہوا ہے گلاس میں لوگوں کی سانس پھول گئی ہے تو کیا ہوااِس شہر کی ہوا بھی نہیں ہے حواس میں رُت کو لہولہان کیا ہے تو دیکھنااِس بار سرخ پھول کھلیں گے کپاس میں گوہر ہماری پیاس سے حالت عجیب ہےرکھا ہوا ہے میز پہ دریا گلاس میں

Read More