چندلوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا
Read MoreTag: افضل گوہر راؤ
افضل گوہر
چھاؤں تو پہلے ہی بہت کم تھی پیڑ بھی دھوپ کا بنا دیا ہے
Read Moreافضل گوہر ۔۔۔ تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے
تمام بوجھ کہاں خاکداں پہ پڑتا ہے کبھی کبھی تو قدم آسماں پہ پڑتا ہے یہ تیر یوں ہی نہیں دشمنوں تلک جاتے بدن کا سارا کھچاؤ کماں پہ پڑتا ہے تُو میرے سامنے آیا نہ کر عدو بن کر کہ ہر نشانہ مرا اب نشاں پہ پڑتا ہے تجھے زمین کے بارے میں علم ہے تو بتا اِس آسمان کا سایہ کہاں پہ پڑتا ہے اِدھر میں پاؤں اُٹھاتا ہوں اور اُدھر گوہر غبار سا صفِ سیاّرگاں پہ پڑتا ہے
Read Moreافضل گوہر راؤ… ایسا بھی کون یاد مجھے آیا پیاس میں
ایسا بھی کون یاد مجھے آیا پیاس میںپانی لہو سے سرخ ہوا ہے گلاس میں لوگوں کی سانس پھول گئی ہے تو کیا ہوااِس شہر کی ہوا بھی نہیں ہے حواس میں رُت کو لہولہان کیا ہے تو دیکھنااِس بار سرخ پھول کھلیں گے کپاس میں گوہر ہماری پیاس سے حالت عجیب ہےرکھا ہوا ہے میز پہ دریا گلاس میں
Read More