سعدیہ بشیر ۔۔۔۔ الجھن

الجھن ۔۔۔۔۔۔۔۔ الجھ سی گئی ہوں نیا سال ہے تو پرانے کا کیا ہو !!!! مرے پاس ایسے بہت سال ہیں۔۔۔، کہاں پر سجاؤ ں ؟ کسی شیلف پر یہ سماتے نہیں۔۔۔ ، نہ یہ ٹوٹ جائیں یہ گٹھڑی میں بھی باندھے جاتے نہیں ، مرتب رہیں ۔۔۔ یہ ملبوس ہیں کیا ؟ کہ دے دوں کسی کو جو مجھ پر ہے گزرا ، وہ میرا رہے گا سمجھ سے ہے باہر کہاں رکھ کے آؤں ؟ جہاں پر گذشتہ کئی سال رکھے وہ بجھنے لگے ہیں انھیں سانس لینے…

Read More