اُداسی کا سماں ہے ، تُو کہاں ہے بہر جانب خزاں ہے ، تُو کہاں ہے مکیں ہے تُو مرے دل میں ، ولیکن نگاہوں سے نہاں ہے، تُو کہاں ہے جہاں بھی ہے مجھے آواز دے دے یہاں ہے یا وہاں ہے ، توُ کہاں ہے بچھڑ کر بھی ، ابھی تک نام تیرا مرے وردِ زباں ہے ، تُو کہاں ہے جہانِ قلب میں مدت سے پیارے بپا ، آہ و فغاں ہے ، توُ کہاں ہے زمانے سے نہیں کوئی گلہ بھی زمانہ مہرباں ہے ،…
Read More