طاہر ناصر علی ۔۔۔ دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے

دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے چھوڑ کر ہم بھی اپنا گھر آئے ایسا لگتا تھا کر رہے ہوں وداع راہ میں جو گھنے شجر آئے یاد کرتے ہوئے اُسے آخر اُس کے کوچے سے ہم گزر آئے جس کو دیکھو وجود میں اپنے تنہا تنہا یہاں نظر آئے شیشۂ اعتبار کیا ٹُوٹا دل کی مسند سے ہم اُتر آئے جس سے آئیں نئی نئی چیزیں تھے پرانے جو گھر نکھر آئے آسماں اشکبار ہوتا ہے دل کی آہوں میں جب اثر آئے ہو گئے دُور ایک لمحے میں ساتھ…

Read More