آہ لیتی تھی آسماں کی خبر
سانس بھی اب تو لی نہیں جاتی
Related posts
-
-
اقبال عظیم
پرسشِ حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو پرسشِ حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں -
علامہ اقبال
ذرا سی بات تھی، اندیشۂ عجم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے
