احمد جلیل ۔۔۔۔ رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی ۔۔۔ अहमद जलील

رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی
وہ دور جا کے بھی ہے مرے پاس ہر گھڑی

تنہا کٹیں گے کیسے یہ جیون کے راستے
ڈستا ہے یہ جدائی کا احساس ہر گھڑی

رہتی ہے اس کی خوشبو سے ہر لحظہ گفتگو
بکھری ہے اس کی چاروں طرف باس ہر گھڑی

مجھ سے خفا خفا ہیں یہ محفل کی رونقیں
پیچھے پڑا ہے میرے یہ بن باس ہر گھڑی

مایوسیوں کے گھور اندھیروں کے باوجود
جگنو سی ٹمٹماتی ہے اک آس ہر گھڑی

ہر لحظہ خیمہ زن ہے یہاں کربلا سی دھوپ
لپٹی ہوئی ہے مجھ سے وہی پیاس ہر گھڑی

اخلاص کی تلاش میں بھٹکا ہوں عمر بھر
مجھ پہ ہے طعنہ زن مرا اخلاص ہر گھڑی
اس کے بغیر لگتی ہے بے کیف زندگی
جب وہ ملے تو ہوتی ہے پھر خاص ہر گھڑی

جھڑتے ہیں پھول منہ سے وہ جب گفتگو کرے
بکھراتا ہے وہ گوہر و الماس ہر گھڑی

ہر لحظہ بے قرار ہی رہتا ہے میرا دل
جیسے ہو ناخنوں سے جدا ماس ہر گھڑی

کیسے نزولِ مصرعِ تر ہو کوئی جلیل
گھیرے ہوئے ہے سوچ کا افلاس ہر گھڑی

Related posts

Leave a Comment