احمد محسود ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی رہبر نہ کوئی زادِ سفر رکھتا ہوں
آس منزل پہ پہنچنے کی مگر رکھتا ہوں

قید ہونے میں نہیں اور برائی کوئی
یہی خفّت یہی سبکی ہے کہ پر رکھتا ہوں

دور ابھرتی ہے گلی میں کوئی مانوس سی چاپ
بام سے جھانکتا ہوں کھول کے در رکھتا ہوں

یہ الگ بات مری لاش نہیں ملتی ہے
اپنے اطرف میں تیراک مگر رکھتا ہوں
گویا دنیا میں ہی پا لیتا ہوں جنت اپنی
ماں کی آغوش میں جب لاڈ سے سر رکھتا ہوں

جن کے دامن میں ستاروں کی ضیا ہے احمد
بزمِ احباب میں وہ خاک بسر رکھتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرد آلود فضا ملنی ہے
ہم کو ورثے میں گھٹا ملنی ہے

کچھ مفادات پہ ہے ضرب پڑی
پورے خطے کو سزا ملنی ہے

حبس کے مارے ہوئے پوچھتے ہیں
کب ہمیں تازہ ہوا ملنی ہے

میں رہوں گا کہیں پس منظر میں
وہ مگر نغمہ سرا ملنی ہے
ایک افسوس ازل سے ہے مجھے
ایک تکلیف سدا ملنی ہے

ایک دروازے پہ ساکت ہوں کھڑا
منتظر ہوں کہ ندا ملنی ہے

Related posts

Leave a Comment