احمد محسود ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی رہبر نہ کوئی زادِ سفر رکھتا ہوں آس منزل پہ پہنچنے کی مگر رکھتا ہوں قید ہونے میں نہیں اور برائی کوئی یہی خفّت یہی سبکی ہے کہ پر رکھتا ہوں دور ابھرتی ہے گلی میں کوئی مانوس سی چاپ بام سے جھانکتا ہوں کھول کے در رکھتا ہوں یہ الگ بات مری لاش نہیں ملتی ہے اپنے اطرف میں تیراک مگر رکھتا ہوں گویا دنیا میں ہی پا لیتا ہوں جنت اپنی ماں کی آغوش میں جب لاڈ سے سر رکھتا ہوں جن کے دامن میں ستاروں کی…

Read More