کوئی رہبر نہ کوئی زادِ سفر رکھتا ہوں آس منزل پہ پہنچنے کی مگر رکھتا ہوں قید ہونے میں نہیں اور برائی کوئی یہی خفّت یہی سبکی ہے کہ پر رکھتا ہوں دور ابھرتی ہے گلی میں کوئی مانوس سی چاپ بام سے جھانکتا ہوں کھول کے در رکھتا ہوں یہ الگ بات مری لاش نہیں ملتی ہے اپنے اطرف میں تیراک مگر رکھتا ہوں گویا دنیا میں ہی پا لیتا ہوں جنت اپنی ماں کی آغوش میں جب لاڈ سے سر رکھتا ہوں جن کے دامن میں ستاروں کی…
Read MoreTag: احمد محسود
احمد محسود ۔۔۔ مرے پیارے خدا اتنی رعایت کر
مرے پیارے خدا اتنی رعایت کر فقط اک شخص مانگا ہے عنایت کر بہت اغیار کی سنتا ہے اے منصف کبھی فریاد میری بھی سماعت کر تو اپنے جھوٹ کو بھی معتبر کر لے مری سچی کہانی کو حکایت کر مرا مسلک مرا فرقہ اداسی ہے دلِ وحشی کسی دکھ کی تلاوت کر ترے بس میں کہاں ترکِ روایت ہے قبیلے کے بزرگوں کی اطاعت کر مرا حصہ ہڑپ کر وہ یہ کہتا ہے خدا کا شکر ادا کر تو قناعت کر مری منزل فرازِ دار ہے احمد تجھے کس…
Read Moreاحمد محسود
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب عطا مجھ کو نعت ہوتی ہے معتبر میری ذات ہوتی ہے نعت جو لکھتا ہوں تو لگتا ہے میری آقاؐ سے بات ہوتی ہے اسمِ احمد لیا اندھیرے میں یوں اندھیرے کو مات ہوتی ہے نعت کے یوں بہت تقاضے ہیں لازمی احتیاط ہوتی ہے سبز گنبد پہ ہے نظر احمد خوب رو کائنات ہوتی ہے ………….. غزل میں اگرچہ گھماؤ میں ہوں لگ رہا ہے بہاؤ میں ہوں میں ہوں زیرِ اثر کسی کے میں کسی کے دباؤ میں ہوں تند…
Read More