فرقت میں تیری جاگتا رہتا ہوں رات بھر
تاروں کی سمت دیکھتا رہتا ہوں رات بھر
بے حال کر دیا ہے غمِ یار نے مجھے
بالوں کو اپنے نوچتا رہتا ہوں رات بھر
کیا جانے کون شام تمنا میں کھو گیا
ظلمت میں کس کو کھوجتا رہتا ہوں رات بھر
مدھم سی روشنی میں چراغِ فراق کی
تصویر تیری دیکھتا رہتا ہوں رات بھر
کیا حال کر دیا ہے ترے عشق نے مرا
تنہائیوں میں بولتا رہتا ہوں رات بھر
تیرے سوا نہیں ہے مری کوئی آرزو
تجھ کو خدا سے مانگتا رہتا ہوں رات بھر
میں جانتا ہوں یاد وہ رکھتا نہیں مجھے
دانش میں جس کو سوچتا رہتا ہوں رات بھر
