اداسی کے رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیال کی چادر پر اداس جذبوں کے دھاگے سے کاڑھی نظم نگاہوں کے گوشے بھگو دیتی ہے احساس کی چبھن پوروں پر محسوس کر کے روح بھی ژولیدہ لمحوں کے لمس سے افسردہ ہو جاتی ہے تخئیل کے کاغذ پر آنسوؤں کے نشان ستاروں کی مانند دمکتے ہیں من کے اندھیرے آنگن میں اجالا جاگنے لگتا ہے محبت خوابیدہ آنکھوں سے یادوںکے کینوس پر اداسی کے پھول کاڑھتی ہے فضا میں گھمبیر تنہائی کی چاپ اور خامشی کی دستک کا الوہی فسوں بکھرا ہے ''اداسی کے رنگ انمٹ ہوتے ہیں ''
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
