ناصر علی سید ۔۔۔ یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں

یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جائوں ابھی تو چاک پہ ہوں، دستِ کوزہ گر میں ہوں میں اپنی فکر کی تجسیم کس طرح سے کروں بریدہ دست ہوں اور شہرِ بے ہنر میں ہوں نہ جانے کون سا موسم مجھے ہرا کر دے لہو کے واسطے بے تاب ہوں، شجر میں ہوں یہ دوستی بھی عجب چوبِ خشک ہے ناصر نبھا رہا ہوں مگر ٹوٹنے کے ڈر میں ہوں

Read More

رضوان علی ۔۔۔ شما چیست

شُما چِیست ۔۔۔۔۔۔ تو کیا یہ ہڈیاں بھُربھُری ہو جائیں گی تو تم انھیں پھر سے زندہ کر پاؤ گے خون کی پُھٹکیاں جب شریانوں میں اٹکنے لگیں گی تو کیا تم انھیں دوبارہ خون میں گھول دو گے جب یہ ریشمی اعصاب جواب دے جائیں گے تو کیا تم کمر سیدھی کر کے گردنیں تان کے زمین پر پھر سے اکڑ اکڑ کے چل پاؤ گے تو نگاہیں نیچی کیوں نہیں کر لیتے؟ رعونت جو تمھاری نسوں سے پُھوٹی پڑ رہی ہے اُسے چھپا کیوں نہیں لیتے؟ تمھیں دکھ…

Read More

سعید شارق … بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں

بس رات ہے اور کیا ہے مجھ میں؟ ہاں! بُجھتا دیا پڑا ہے مجھ میں جو کاٹ دیا تھا عرصہ پہلے اب بھی وہ شجر ہرا ہے مجھ میں کچھ اپنے لیے بھی تعزیت کر! تُو بھی تو نہیں بچا ہے مجھ میں ہر سمت ہیں خار دار تاریں اور ایک ہی راستہ ہے مجھ میں مَیں گونج رہا ہوں سر سے پا تک اک بھٹکی ہُوئی صدا ہے مجھ میں تُو آئے کہ اور کوئی آئے دروازہ کھُل چکا ہے مجھ میں پِھر پِھر کے دیکھتا ہے دل کو…

Read More