تو نے تھوڑی سی بے رخی برتی میں سماوات سے نکل آیا
Read MoreMonth: 2021 فروری
بانی ۔۔۔ شب وہاں تذکرۂ کم ہنراں تھا کتنا
شب وہاں تذکرۂ کم ہنراں تھا کتنا کیا چمکتا کوئی شعلہ کہ دھواں تھا کتنا ہم کھنچے بیٹھے تھے شمشیرِ برہنہ کی طرح ہم پہ اک پھول کا سایہ بھی گراں تھا کتنا پھر نہ گنجایشِ یک صدمہ بھی ہم تم پہ رہی ٹوٹتا سلسلہ دونوں پہ عیاں تھا کتنا دیکھ لی تھی مرے اندر کی سیاہی اس نے اِک ستارہ مری جانب نگراں تھا کتنا آنکھ سورج نے چرا لی، تو جبیں پربت نے کچھ ہوا لے اُڑی، سرمایۂ جاں تھا کتنا ایک آواز کہ ہونٹوں پہ جمی تھی…
Read Moreمحمد مختار علی ۔۔۔ چراغِ رہگزر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں
چراغِ رہگزر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں کسی کو کیا خبر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں ذرا سا شور بھی دِل کے لیے بارِ سَماعت ہے سکوتِ بام و در! اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں! کوئی رکتا نہیں ، سنتا نہیں رُودادِ تنہائی! بہ مثلِ رہگزر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں! بَظاہر کٹ رہا ہے وقت ہنستے کھیلتے اپنا عزیزانِ سفر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں سجا لیتے ہیں بزمِ دوستاں حیلوں بہانوں سے حقیقت میں مگر اندر سے ہم کتنے اکیلے ہیں میّسر ہیں…
Read Moreفضل گیلانی ۔۔۔ عجب ٹھہرائو تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی
عجب ٹھہرائو تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی روانہ بھی نہیں تھا اور ہجرت ہو رہی تھی بنایا جا رہا تھا کینوس پر زرد سورج ابھارا جا رہا تھا نقش، حیرت ہو رہی تھی کہیں جاتا نہیں تھا میں کہیں آتا نہیں تھا یقیں آتا نہیں تھا ایسی حالت ہو رہی تھی مرا اِس کے بنا تو جی زرا لگتا نہیں تھا اداسی لوٹ آئی تھی مسرت ہو رہی تھی چراغ ایک ایک کر کے روشنی کرنے لگے تھے مجھے ان سب چراغوں سے محبت ہو رہی تھی نیا…
Read Moreجشنِ آزادی کی شب ۔۔۔ یونس متین
جشنِ آزادی کی شب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کس بستی میں خود کو بیچنے نکلے ہو! جس کے باسیوں کے ہاتھ کاندھوں تک کٹے ہیں اور جیبوں میں سوائے پتھروں کے کچھ نہیں ہے کون سی بستی کے لوگوں میں چلے آئے ہو، جن کے لیکھ میں ماضی نہ آیندہ فقط کشکول ہیں جو حال کی گردِ ملامت سے اٹے ہیں چند خوابوں کے عوض آنکھوں کو گروی رکھ چکے ہیں اک اندھیری دھوپ کے لرزیدہ ہاتھوں میں، یہاں امشب جلوسِ ناگہاں ہے آج برفیلے اندھیرے کی رگوں میں ہانپتی بے نُور لرزاں…
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ رنگ کا، نور کا، بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو !
رنگ کا، نور کا، بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو ! زندگی عشرتِ احساس کا دھوکا ہی نہ ہو ! جیسے اک خواب ہوا عہدِ گزشتہ کا ثبات دمِ آئندہ مری آس کا دھوکا ہی نہ ہو ! یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تارِ نظر ! یہ ہنر گوہرو الماس کا دھوکاہی نہ ہو ! میرے تخئیل کے ہی عکس نہ ہوں سبزہ و گْل دہر اَوہام کا ، وسواس کا دھوکا ہی نہ ہو!
Read Moreبانی ۔۔۔۔ وہاں سے اب کوئی آئے گا لوٹ کر بھی کیا!
وہاں سے اب کوئی آئے گا لوٹ کر بھی کیا! حریف کیا، مرے یارانِ معتبر بھی کیا! نہ اب ہے آب میں موتی نہ خاک میں سونا مری طرح ہوئے خالی یہ بحر و بر بھی کیا؟ نہیں رہے گا یہ ہنگامہ کچھ قدم تک بھی پھر اُس کے بعد مرے ساتھ ہم سفر بھی کیا! خبر اُڑانے سے موقعے پہ چوکتا بھی نہیں ہمارا دوست ہے لیکن ہے بے ضرر بھی کیا! وہ فاصلے تھے کہ دونوں کو راس آتے گئے کسی کو دوسرے کی پھر کوئی خبر بھی…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ ادا جعفری
عہدِ جدید میں ادا جعفری کو بلا شبہ اُردو شاعری میں خاتونِ اوّل کا درجہ حاصل ہے جنہوں نے طبقۂ نسواں کی شاعری کو اعتبار بخشا۔اُن کی شاعری ایک طرف تو اُردو کی کلاسیکی اور تہذیبی روایت کی شاعری تھی تو دوسری طرف جدید اور عصری حسیت سے آراستہ بھی تھی۔یہ ممکن نہیں کہ ہم نسائی شاعری کے ارتقا پر بات کریں اور بات کا آغاز ادا جعفری سے نہ ہو کیوں کہ وہ اِس سلسلے میں نقطۂ آغاز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا نسائی شعر گوئی کے فکری و…
Read Moreمحمد یعقوب آسی ۔۔۔ یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں
یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں کہ خود کو اجنبی سا لگ رہا ہوں یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں تمہاری ذات سے نسبت جو ٹھہری سو خود کو معتبر لگنے لگا ہوں کھٹکتا ہوں انہیں تو کیا عجب ہے تمہارے ساتھ جو بیٹھا ہوا ہوں
Read More